ﺁﺩﮬﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﻨﺎﭨﮯ ﻣﯿﮟ

Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

ﺁﺩﮬﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﻨﺎﭨﮯ ﻣﯿﮟ
ﮐﺲ ﻧﮯ ﻓﻮﻥ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ؟
ﺟﺎﻧﮯ ﮐﺲ ﮐﺎ ﻓﻮﻥ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ
ﻓﻮﻥ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﯾﻮﮞ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﺟﺎﻧﺐ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻢ ﺳﻢ ﮔﻢ ﺳﻢ
ﺍﮐﮭﮍﺍ ﺍﮐﮭﮍﺍ
ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﮐﺎﻧﭗ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
ﻣﮩﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮨﮯ
ﮔﮭﭗ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﮔﻨﺞ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﭨﮭﻨﮉﯼ ﺳﺎﻧﺴﯿﮟ ، ﺑﺎﺭﺵ
ﺁﻧﺴﻮﮞ
ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺗﮭﮏ ﮐﺮ ﺟﺐ
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﺎ ﺗﻮ
ﭼﻮﮌﯼ ﮐﮭﻨﮑﯽ
ﺍُﻑ ﯾﮧ ﮐﮭﻦ ﮐﮭﻦ
ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ
ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﺑﺪﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ
ﺗﯿﺮﮮ ﻋﻼﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺑﻌﺪ

Rate it:
Views: 639
07 Nov, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL