ﺑﮩﺖ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ
Poet: شفق کاظمی By: Shafaq kazmi, Karachiﺑﮩﺖ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺳﺮ ﮐﮭﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ
ﺑﮩﺖ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ
ﺑﮩﺖ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻮﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﺮﺗﺎ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﻮ
ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ
ﺭﮐﮭﺘﯽ
ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﺮﺗﯽ
ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺗﮑﻠﯿﻔﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ
ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﯽ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺍﮐﯿﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ
ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ
ﮨﮯ
ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﺟﮫ ﺳﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺑﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺎ
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺗﮑﻠﯿﻒ
ﺩﮮ ﺩﯼ
ﻣﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ
ﺳﻨﻮ ﺍﺏ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﺑﮩﺖ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ
More Sad Poetry
بجھا دیئے گئے تو کیا دیے تھے ہم تو ماند سے بجھا دیئے گئے تو کیا
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
Rasheed Hasrat
قفس نشیں دل اگرچہ میرے پاس روابط کے تمام ذرائع ہیں میسر،
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
Malaika Khan
پرانی یادوں کی خوشبو وہ پرانے دن وہ باتیں وہ زمانہ یاد ہے
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
Mohammed Masood
لہو لہو میرا کشمیر خبر نہیں کہ سحر کب تلک یہ رات رہے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
Mohammed Masood
درد دل پھر وہی درد ، وہی زخم ، وہی مرحم
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
Ghulam Mujtaba faroqii






