ﺑﮩﺖ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ
Poet: شفق کاظمی By: Shafaq kazmi, Karachiﺑﮩﺖ ﺑﻮﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﯿﮟ
ﺑﮩﺖ ﺳﺮ ﮐﮭﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ
ﺑﮩﺖ ﺗﻨﮓ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ
ﺑﮩﺖ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻮﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﺮﺗﺎ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﻮ
ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻌﻠﻖ ﻧﮩﯿﮟ
ﺭﮐﮭﺘﯽ
ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﺮﺗﯽ
ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ
ﻣﯿﺮﯼ ﺫﺍﺕ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺗﮑﻠﯿﻔﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ
ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﯽ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺍﮐﯿﻼ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ
ﺍﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ
ﮨﮯ
ﭘﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﺟﮫ ﺳﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺑﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺎ
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﮨﺮ ﺑﺎﺭ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺗﮑﻠﯿﻒ
ﺩﮮ ﺩﯼ
ﻣﯿﮟ ﭨﻮﭦ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ
ﻣﺮ ﭼﮑﯽ ﮨﻮﮞ
ﺳﻨﻮ ﺍﺏ ﺑﮩﺖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ
ﺑﮩﺖ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﻮﮞ
More Sad Poetry
لہو لہو میرا کشمیر خبر نہیں کہ سحر کب تلک یہ رات رہے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
Mohammed Masood
درد دل پھر وہی درد ، وہی زخم ، وہی مرحم
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
Ghulam Mujtaba faroqii
زمانے سے کنارا زمانے سے کنارا کر لیا میں نے
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے
Kesar Khan






