ﺧﻮﺍﺏ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
Poet: By: Sumera Ataria, GUDDUﺧﻮﺍﺏ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﮭﻮﭦ
ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺩﻭﺳﺖ ﺩﺍﺭ ﻟﮩﺠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻠﻮﭨﯿﮟ
ﺳﯽ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﺍﮎ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺭﻧﺠﺶ ﺳﯽ
ﺷﮏ ﮐﯽ ﺯﺭﺩ ﭨﮩﻨﯽ ﭘﺮ ﭘﮭﻮﻝ
ﺑﺪﮔﻤﺎﻧﯽ ﮐﮯ
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﮐﮭﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭﮮ ﺑﮭﯽ
ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺳﮯ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ' ﻏﯿﺮ ﺑﻦ ﮐﮯ
ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﻮ ﺁﺳﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﻠﺘﺎ
ﺩﺷﺖِ ﺑﮯ ﯾﻘﯿﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﻠﺘﺎ
ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﮐﮯ ﻭﻗﻔﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺑﺎﺕ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺳﺮﺍ ﻧﮩﯿﮟ
ﻣﻠﺘﺎ
ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﻭﺷﻨﯽ
ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ
ﻟﺬﺕِ ﭘﺰﯾﺮﺍﺋﯽ' ﭘﮭﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﯽ
ﭘﮭﻮﻝ ﺭﻧﮓ ﻭﻋﺪﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ
ﺳﮑﮍﺗﯽ ﮨﯿﮟ
ﺭﺍﮦ ﻣﮍﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ
ﺑﮯﺭﺧﯽ ﮐﮯ ﮔﺎﺭﮮ ﺳﮯ،ﺑﮯ ﺩﻟﯽ ﮐﯽ
ﻣﭩﯽ ﺳﮯ
ﻓﺎﺻﻠﮯ ﮐﯽ ﺍﯾﻨﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﯾﻨﭧ ﺟﮍﻧﮯ
ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ
ﺧﺎﮎ ﺍﮌﻧﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ
ﺧﻮﺍﺏ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﻭﺍﮨﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺋﮯ ﺳﮯ'ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ
ﮐﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﻮ
ﭘﻞ ﻣﯿﮟ ﻟُﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﮎ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺭﻧﺠﺶ ﺳﮯ
ﺳﺎﺗﮫ ﭨﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺑﮭﯿﮍ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﯽ
ﮨﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﭦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






