جاپان نے ٹوکیو اولمپکس منسوخ کرنے کی تردید کی

منتظمین کا کہنا ہے کہ حکومت اور آئی او سی سمیت تمام شرکاء نے اولمپک کی میزبانی پر اپنی پوری توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ ایک برطانوی اخبار نے  جاپان کے حکمراں اتحاد کے ایک رہنما کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ٹوکیو اولمپکس کھیل نہیں ہوں گے۔

جاپان کے سرکاری ترجمان اور نائب چیف کابینہ سکریٹری منابو سکائی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جمعے کے روز اخبارات میں شائع ہونے والی ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے سبب اولمپک مقابلے منسوخ کردیے جائیں گے۔

برطانوی اخبار دی ٹائمز نے جاپانی حکومت کے ایک نامعلوم سینئر رکن کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ٹوکیو اولمپکس کے انعقاد کی کوششیں ترک کردی گئی ہیں اور حکومت اب ٹوکیو میں اس مقابلے کے انعقاد کے لیے اگلے دستیاب سال، 2032، کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

منابو سکائی کے مطابق حکومت کھیلوں کی میزبانی کو یقینی بنانے کے لیے کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:50 ’دو افغان کھلاڑیوں کا بڑا خواب‘

بھیجیے Facebook Twitter Whatsapp Web EMail Facebook Messenger Web reddit

پیرما لنک https://p.dw.com/p/2WJHC

’دو افغان کھلاڑیوں کا بڑا خواب‘ منسوخی کا خدشہ

اولمپکس کے انعقاد کا معاملہ اس ماہ کے اوائل میں اس وقت کھٹائی میں پڑتا ہوا دکھائی دینے لگا تھا جب ٹوکیو نے کورونا وائرس کے کیسز میں مسلسل اضافے کی وجہ سے ہنگامی حالات نافذ کرنے کا اعلان کیا اور بڑی تعداد میں لوگوں نے ان کھیلوں کو منسوخ کرنے کے حق میں اپنی رائے دی۔

جمعرات کے روز انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کے صدر تھامس باخ نے اعتراف کیا تھا کہ اس بین الاقوامی مقابلے کے انعقاد کے لیے، جو کہ 23 جولائی سے شروع ہونے والے ہیں، کوئی دوسرا منصوبہ نہیں ہے۔

ناظرین کے متعلق فیصلہ

اولمپک اور پیرا اولمپکس کھیلوں میں تقریباً پندرہ ہزار بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ٹوکیو میں شرکت کرنے کی توقع ہے۔ پیرا اولمپک 24  اگست سے شروع ہوں گے۔

منتظمین اگلے چند ہفتوں کے دوران یہ فیصلہ کریں گے کہ کورونا وائرس کے خطرے کے مدنظر ناظرین کو بھی شرکت کی اجازت دی جاسکتی ہے یا نہیں۔

آئی او سی کے ایک سینئر رکن ڈک پاونڈ نے پہلے مشورہ دیا تھا کہ کورونا ویکسین لگوانے والوں کی فہرست میں ایتھلیٹوں کو پہلے جگہ دی جائے تاکہ اولمپک کھیلوں کے انعقاد کے امکانات بڑھ جائیں۔ تاہم عوام، ماہرین صحت اور خود کھلاڑیوں نے بھی اس تجویز کی سخت مخالفت کی تھی۔

جان سلک/ ج ا/ ص ز

ویڈیو دیکھیے 00:58 جاپان میں تیار کردہ ’موبائل مسجد‘

بھیجیے Facebook Twitter Whatsapp Web EMail Facebook Messenger Web reddit

پیرما لنک https://p.dw.com/p/328xw

جاپان میں تیار کردہ ’موبائل مسجد‘


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

102