وزیراعظم کی تحریک انصاف کو جام کمال کے ساتھ کھڑا ہونے کی ہدایت

image

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا معاملہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے تحریک انصاف کو وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے ساتھ کھڑا ہونے کی ہدایت کردی ہے۔

،ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کو بھی ناراض ساتھیوں کے تحفظات دور کرنے کا مشورہ دیاگیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان کو بچانے کے لیے سینیٹرز بھی سرگرم ہوگئے ہیں۔

 وزیراعلیٰ بلوچستان کو بچانے کے لیے سینیٹر دنیش کمار اور انوار الحق کاکڑ بھی سرگرم ہیں۔دونوں سینیٹرز ناراض ساتھیوں کو منانے کےلیے رابطوں کی کوشش کر ہےہیں۔

ذرائع کے مطابق سینیٹرز وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کو بچانے کے لیے آخری حد تک جانے کو تیار ہیں۔

وزیراعلیٰ جام کمال کی قسمت کا فیصلہ 20 اکتوبر کو ہوگا، اپوزیشن جماعتوں کے 23 ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کرینگے۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی صدارت سے مستعفی نہیں ہوئے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ دوستوں نے مشورہ دیاکہ میں پارٹی الیکشن تک پارٹی کا صدر رہوں۔ پارٹی سے استعفیٰ نہیں دے رہے نہ ہی دیں گے۔

جام کمال خان نے مزید کہاکہ میں نے پارٹی صدارت سے باقاعدہ طور پر استعفیٰ نہیں دیا تھا۔

سیکرٹری جنرل منظورکاکڑ کا کہناتھا کہ پارٹی کی کور کمیٹی نے آئین کے مطابق متبادل قائم قام صدر نامزد کیا۔ ظہور بلیدی بلوچستان عوامی پارٹی کے قائم مقام صدر اور جام کمال پارٹی کارکن ہیں۔

سیکرٹری جنرل منظورکاکڑ نے کہاکہ متبادل صدر کی نامزدگی کے بعد جام کمال کا استعفیٰ واپس ٰلینے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔

اس سے قبل وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد جو بھی صدر بنا اس کے ساتھ چلیں گے۔

گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے اپنے ساتھیوں اور اتحادیوں کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پارٹی سے استعفیٰ نہیں دے رہا اور نہ دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ میں نہیں چاہتا پارٹی میں انتشار پھیلے ، کچھ دوستوں کاکہنا ہے کہ میں پارٹی الیکشن تک پارٹی کا صدر رہوں ، دوستوں کی خواہش کی وجہ سے پارٹی الیکشن تک صدر رہوں گا ۔

   جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کی صدارت سے مستعفی نہیں ہو رہا ، پارٹی صدارت سے مستعفی ہونے سے متعلق ایک ٹوئٹ کیا تھا ، ٹوئٹ پر ساتھی اراکین ناراض ہوئے اور فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ، پارٹی صدارت سے استعفیٰ تحریری طور پر دیا نہ دونگا۔

 وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا کہ ناراض اراکین کے خلاف کارروائی کا الیکشن کمیشن کو لکھنے کا ارادہ نہیں ، حکومتی معاملات معمول کے مطابق چلا رہا ہوں۔

Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.