لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے  پر عزم

image

لاہور چیمبر آف کامرس ااینڈ انڈسٹری نے معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سہ یکجہتی حکمت عملی پیش کی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک بیان میں لاہور چیمبر کے صدر میاں نعمان کبیر، سینئر نائب صدر میاں رحمٰن عزیز چن اور نائب صدر حارث عتیق نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج انڈیکس میں تنزلی وقتی ہے جس پر سرمایہ کاروں کو ہراساں نہیں ہونا چاہیے، توقع ہے کہ یہ جلد ہی بحالی کا عمل شروع کردے گی۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی اسٹاک مارکیٹ ایک اہم اقتصادی اشاریہ ہوتی ہے، ایک دن میں 2134پوائنٹس گرنے سے عالمی سطح پر پاکستان میں سرمایہ کاری کے متعلق منفی تاثرات پیدا ہونے کا اندیشہ ہے لہذا اس سلسلے میں فوری حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں کمی کی بڑی وجوہات میں تجارتی خسارہ، پالیسی ریٹ میں اضافہ اور مہنگائی وغیرہ شامل ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت کو تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے اقدامات اٹھانے چاہئیں، رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں تجارتی خسارہ تقریبا 20.5ارب ڈالر رہا جس میں روپے کی قدر میں کمی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

 انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے حکومت کو غیر ضروری اور پرتعیش اشیا کی درآمدات کم کرنا ہونگی، مزید یہ کہ چین کے ساتھ کرنسی سویپ معاہدہ نافذ کیا جائے جہاں سے ہماری درآمدات تیرہ ارب ڈالر سے زائد ہیں ۔

 انہوں نے کہا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے نئی منڈیوںکی تلاش اور نئی اشیا متعارف کروانا ضروری ہے، بالخصوص فارماسیوٹیکل ،انجینئرنگ انڈسٹری اور حلال فوڈ وغیرہ جیسے شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔

لاہور چیمبر کے صدر میاں نعمان کبیر  کا کہنا تھا کہ افریقہ، روس اور وسطی ایشیا ئی ریاستوں کو برآمدات کے فروغ کے لیے رسمی بیکنگ چینلز ترجیحی بنیادوں پر قائم کیے جائیں۔

 انہوں نے کہا کہ آئل امپورٹ بل کم کرنے کے لیے قابل تجدید توانائی کے ذرائع استعمال کیے جائیں۔

 انہوں نے کہا کہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں کنٹرول کرنے پرائس کنٹرول مکینزم کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

 انہوں نے کہا کہ پالیسی ریٹ میں 150بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد یہ 8.75 فیصد ہو گیا ہے جس کے معاشی نمو پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

لاہور چیمبر کے صدر میاں نعمان کبیر   کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو پالیسی ریٹ کم کرکے دیگر علاقائی ممالک کے مقابلے میں لانا چاہیے۔

Square Adsence 300X250


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.