پاکستان اورکالعدم ٹی ٹی پی کےمابین مذاکرات کن شرائط پرہورہےہیں؟

image

کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) اور پاکستانی اداروں کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے متعلق ٹی ٹی پی کا پہلا بیان سامنے آگیا ہے۔

مذاکرات کے حوالے سے کالعدم ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان امارت اسلامی افغانستان ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے مطابق مذاکرات میں تحریک طالبان اور حکومت پاکستان کی سربراہ کمیٹیوں کے درمیان ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب محسود قبیلہ کے 32 افراد پر مشتمل کمیٹی اور ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف قبائل کے نمائندہ جو 19 افراد پر مشتمل ہیں وہ بھی حکومت پاکستان کے مطالبے پر تحریک طالبان پاکستان کی مذاکراتی کمیٹی ملاقاتیں کرچکے ہیں۔ یہ ملاقاتیں 13 اور 14 مئی کو ہوئیں۔ جس میں ان کا پرُزور مطالبہ تھا کہ جب تک مذاکراتی کمیٹیاں بیٹھی ہوئی ہیں، دونوں جانب سے فائر بندی کا اعلان ہونا ضروری ہے۔

جس کے بعد دونوں جانب سے فریقین نے 30 مئی تک سیز فائر پر اتفاق کیا ہے، تاہم مذاکرات کی شرائط سے متعلق ٹی ٹی پی ترجمان نے سما کو بتایا کہ یہ شرائط ابھی ٹیبل پر موجود ہیں، جنہیں فی الحال سامنے نہیں لایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں پاکستانی سیکیورٹی حکام اور ٹی ٹی پی قیادت کے درمیان دو ہفتے سے مذاکرات جاری ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام کیجانب سے ٹی ٹی پی سینیر جنگجو محمود خان اور مسلم خان کو بھی رہا کیا گیا ہے، تاہم ٹی ٹی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال دونوں رہنما اس وقت پاکستان میں ہی موجود ہیں اور انہیں ٹی ٹی پی کی قیادت کے حوالے ابھی نہیں کیا گیا ہے۔

اطلاعات یہ بھی ہیں کہ گزشتہ دو روز سے پشاور کور کے سربراہ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید مذاکرات کے سلسلے میں افغانستان میں موجود ہیں، تاہم سرکاری سطح پر نہ اس سے متعلق کوئی تردید یا تصدیق سامنے آئی ہے اور نہ ہی کوئی بیان جاری کیا گیا ہے۔

طالبان کیجانب سے مذاکرات میں کمیٹی کی سربراہی قاضی محمد عامر کر رہے ہیں، جب کہ دیگر افراد میں مولوی فقیر محمد، ڈاکٹر حمود، مفتی ابوھریرہ، ہلال غازی اور مولوی آصف وغیرہ شامل ہیں۔


News Source   News Source Text

WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.