گلگت بلتستان میں سیاح کیوں پھنسے ہوئے ہیں اور احتجاج کے باعث کون سے راستے بند ہیں؟

’ہم گلگت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز گلگت کے قریب ایک جھیل پر جانے کا پروگرام بنایا تھا مگر گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بعد واپس ہوٹل آ گئے۔ دو دن ہو گئے ہیں، ہوٹل ہی میں بیٹھے ہیں۔ ہنزہ جانے کا پروگرام تھا مگر اب ایسا کرنا مشکل نظر آ رہا ہے۔‘

’ہم گلگت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز گلگت کے قریب ایک جھیل پر جانے کا پروگرام بنایا تھا مگر گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہنے کے بعد واپس ہوٹل آ گئے۔ دو دن ہو گئے ہیں، ہوٹل ہی میں بیٹھے ہیں۔ ہنزہ جانے کا پروگرام تھا مگر اب ایسا کرنا مشکل نظر آ رہا ہے۔‘

یہ کہنا ہے لاہور کے رہائشی جواد گیلانی کا جو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ دو جولائی کو سیاحت کی غرض سے گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت پہنچے تھے۔ جواد کے مطابق جولائی میں گلگت بلتستان آنے کا پلان انھوں نے اپنے بچوں اور اہلیہ کے ساتھ مل کر لگ بھگ چھ ماہ قبل بنایا تھا۔

یاد رہے کہ گلگت بلتستان کے شہروں گلگت اور ہنزہ میں گزشتہ کئی دنوں سے عوامی احتجاج جاری ہے اور دو مختلف معاملات پر احتجاج کرنے والے سینکڑوں مظاہرین نے اہم شاہراہوں کو متعدد مقامات پر دھرنے دے کر بند کیا ہوا ہے۔

لاہور سے یہاں پہنچنے والے جواد گیلانی ہی نہیں بلکہ اس وقت گلگت بلتستان میں موجود بہت سے سیاح اس صورتحال کے باعث پھنسے ہوئے ہیں جبکہ مقامی انتظامیہ کے مطابق مقامی افراد کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب ضلع انتظامیہ گلگت کی جانب سے اتوار کی شام جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان آنے والے سیاح اور مسافر راستے کی معلومات حاصل کر کے سفر کریں اور سفر کا آغاز کرنے سے قبل وہ گلگت کنٹرول روم کے ذریعے مقامی انتظامیہ سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

ہوٹل ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے جنرل سیکریٹری کوثر حسین کے مطابق ’اس وقت ہمارے اندازے کے مطابق ساٹھ سے ستر ہزار پاکستانی اور لگ بھگ پانچ ہزار کے قریب غیر ملکی سیاح گلگت بلتستان کے مختلف شہروں میں موجود ہیں۔ اس صورتحال کے باعث سب ہی لوگ پریشان ہیں۔‘

موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سیاح جواد گیلانی نے کہا کہ ’بدقسمتی سے گلگت بلتستان پہنچ کر ہم نے اپنا پیسہ اور وقت دونوں ضائع کیے۔ انجوائے کرنے کی بجائے مفت میں پریشانی الگ سے مول لی۔ ہمیں مطلع نہیں کیا جا رہا کہ یہ احتجاج کب تک جاری رہیں گے اور کون کون سے راستے بند ہیں۔‘

احتجاج کیوں ہو رہا ہے اور سٹرکیں کہاں کہاں بلاک ہیں؟

گلگت بلتستان میں اس وقت دو مقامات گلگت اور ہنزہ کے قریب احتجاج ہو رہا ہے۔ گلگت میں مقامی ’اسیران کمیٹی‘ کے زیر انتظام احتجاج جاری ہے جہاں مظاہرین کی جانب سے سنہ 2005 میں ہونے والے ہنگاموں میں 25 سال قید کی سزا پانے والوں کی رہائی کے مطالبات کیے جا رہے ہیں۔

دوسرا احتجاج ہنزہ کے قریب کیا جا رہا ہے۔ جس میں ناصرہ آباد کے مقامی لوگ ماربل نکالنے کا ٹھیکہ مبینہ طور پر گلگت بلتستان کی غیر مقامی کمپنیوں کو دینے پر احتجاج کر رہے ہیں۔

گلگت بلتستان اسمبلی کی مذاکرات کے لیے بنائی جانے والی پارلیمانی کمیٹی کے ممبر امجد حسین ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر حالات اتنے اچھے نہیں ہیں کیونکہ گگلت شہر مکمل طور پر بند ہے۔ امجد حسین کے مطابق ضلع غذر کو جانے والے راستے مکمل بند ہیں، جس وجہ سے ضلع غذر میں کسی قسم کی سپلائی نہیں پہنچ پا رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ احتجاج کا سلسلہ سات روز قبل شروع ہوا تھا جس میں اب تیزی آئی ہے۔

امجد حسین نے بتایا کہ ناصرہ آباد کے مقام پر بھی مرکزی روڈ کئی مقامات سے بند ہے جبکہ شاہراہ ریشم گلگت سے ہنزہ کے لیے بند ہے۔ ’ہم اس وقت مذاکرات کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ ضلع غذر کو جانے والا راستہ کسی طرح کھل جائے تا کہ وہاں پر سپلائی لائن پہنچ سکے اور کسی قسم کے حالات خراب نہ ہوں۔‘

گلگت میں اسیران کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر امجد علی چنگیزی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم لوگوں نے تنگ آ کر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ معاملہ فقط سزا پانے والے 13 افراد کا نہیں بلکہ 13 خاندانوں کا ہے جن میں سے ایک شخصرحمت علی ہارٹ اٹیک سے ہلاک ہو چکا ہے۔‘

ڈاکٹر امجد علی چنگیزی کے مطابق اس وقت کئی قیدیوں کی صورتحال تشویشناک ہے جبکہ ایک ستر سال سے زائد عمر کا قیدی گلگت ہسپتال میں زیر علاج ہے۔

ڈاکٹر امجد علی چنگیزی کا دعویٰ تھا کہ ’2005 کے ہنگاموں کا جو مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ سرکار کی جانب سے نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا تھا تاہم بعد میں 14 لوگوں کو ان مقدمات میں نامزد کیا گیا۔ خصوصی عدالت میں مقدمہ چلا۔ لوگوں نے ضمانتیں حاصل کیں اور پھر 2015 میں مقدمہ فوجی عدالت میں بھج دیا گیا تھا۔ جس میں ان کو سزائیں سنائی گئیں۔‘

’ہم نے فیصلہ کیا ہوا ہے کہ چاہے اب حالات جو بھی ہوں۔ ابشروع ہونے والا احتجاج اسیران کی رہائی تک ختم نہیں ہو گا۔ صبر اور برداشت کی بھی حد ہوتی ہے۔‘

سرکاری مذاکراتی کمیٹی کے رکن امجد حسین ایڈووکیٹ کے مطابق مظاہرین کے مطالبات پہلے دن ہی سے تسلیم کر لیے تھے اور مذاکراتی کمیٹی نے تمام اعلیٰ حلقوں سے بات کی تھی، جس میں قانون اور قاعدے کے مطابق آگے چلنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ اس کا ایک پورا پراسیس ہے اور مظاہرین کو بتایا گیا تھا کہ اس پراسیس کو فالو کرنا ہو گا مگر اس کے باوجود بھی احتجاج جاری ہے، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔

تاہم ڈاکٹر امجد علی چنگیزی کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال بھی احتجاج پر ہمیں یہ ہی کہا گیا تھا مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

شاہراہ قراقرم نے سیاحت اور گلگت بلتستان کے لوگوں کی زندگیاں کیسے بدلیں؟

ایڈونچر سیاحت: ہوٹل نہیں خیموں میں رہنے والے منچلے

وادئ کُمراٹ: ’یہاں تو پانی کا شور بھی سکون دیتا ہے‘

جب ہوٹل کے کمرے کی صفائی کے دوران جوہر علی کی نظر لاکھوں روپے پر پڑی

گلگت بلتستان میں دوسرا احتجاج ہنزہ کے علاقے ناصرہ آباد میں ہو رہا ہے۔ احتجاج کی قیادت کرنے والے ناصر علی کے مطابق یہ احتجاج ناصرہ آباد اور گلگت بلتستان میں قدرتی معدنیات کے ٹھیکے غیر قانونی طور پر غیر مقامی لوگوں کو دینے پر کیا جا رہا ہے۔

’ناصرہ آباد میں مقامی لوگوں نے سوسائٹی بنا کر سنہ 1982 سے کام کر رہے ہیں مگر اب مرکزی ٹھیکہ کسی اور غیرعلاقائی کمپنی کو دے دیا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم لوگوں نے کئی ٹن ماربل نکال رکھے ہیں مگر حکومت ہمیں راہداری نہیں دے رہی ہے۔ ہم یہ بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ مقامی وسائل پر باہر کے لوگوں کا قبضہ ہو۔ ہمارا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہمارا مطالبہ پورا نہیں ہو جاتا ہے۔‘

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے ترجمان سے متعدد مرتبہ رابطے کی کوشش کی گئی مگر جواب موصول نہیں ہوا جبکہ گلگت بلتستان کے وزیر اطلاعات فتح علی خاننے بھی اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔

تاہم گلگت بلتستان حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ مظاہرین سے مذاکرات کے ذریعے سے احتجاج ختم کروایا جائے۔

گلگت سے صحافی وجاہت علی کے مطابق شاہراہ قراقرم سات مقامات سے دھرنوں اور احتجاج کے سبب بند ہے، جس کی وجہ سے گلگت، نگر اور ہنزہ میں سیاح اور مسافر پھنسے ہوئے ہیں۔ وجاہت علی کے مطابق اِس وقت گلگت شہر میں سات مختلف مقامات پر احتجاج جاری ہے، جس سے عملاً نظام زندگی متاثر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہریوں سے یہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ احتجاج کے سبب ضلع غذر میں پیڑول کی قلت پیدا ہو چکی ہے جبکہ مختلف اضلاع میں بھی اشیائے خورد ونوش کی قلت پیدا ہو رہی ہے۔

شاہراہ قراقرم پر یہ احتجاج یکم جولائی سے جاری ہے۔

’سیاحت کی انڈسڑی بیٹھ چکی ہے‘

جواد گیلانی کی اہلیہ ڈاکٹر مریم راؤ کہتی ہیں کہ ’ہمارا ارادہ تھا کہ ہم لوگ گلگت میں تھوڑا رُک کر ہنزہ کی طرف جائیں گے۔ مگر اب ہم ہنزہ کی طرف سفر کرنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ ہم لوگوں کی چھٹیاں آٹھ تاریخ تک ہیں۔ جس بنا پر سوچ رہے ہیں کہ گلگت میں بیٹھنے کاکیا فائدہ ہم واپسی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اس دوران کچھ وقت نارانکاغان میں گزار لیں گے۔‘

ڈاکٹر مریم راؤ کا کہنا تھا کہ گلگت کے اندر بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا مشکل ہو چکا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔

ہوٹل ایسوسی ایشن گلگت بلتستان کے جنرل سیکریٹری کوثر حسین کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں یہ چار، پانچ ماہ ہی سیاحت کا عروج ہوتا ہے جس دوران سیاح بڑی تعداد میں اس علاقے کا رُخ کرتے ہیں۔

’ہم سیاحوں کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں کچھ متبادل راستوں سے ان کا آنا جانا ممکن بنانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر اس میں زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ گذشتہ چھ، سات روز کے دھرنوں سے سیاحت سے منسلک تمام شعبے بیٹھ چکے ہیں۔

’مرغی کی قیمتوں سے لے کر ہوٹل اور ریسٹورنٹ تک، سب کے سب متاثر ہیں۔ کسی کا کوئی کام اور کاروبار نہیں ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہے۔ اس صورتحال میں ہم ابھی ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ لگ رہا ہے کہ مستقبل میں بھی سیاح علاقے کا رخ کرنے سے قبل سوچیں گے۔‘

کوثر حسین کا کہنا تھا کہ ’ملک میں اگر سیاحت کو صنعت کا درجہ دینا ہے تو پھر مقامی مسائل پر بھی توجہ دینا ہو گئی۔ لوگوں کے مسائل کو حل کرنا ہو گا۔ لوگوں کو اتنا مجبور نہیں کرنا چاہیے کہ وہ انتہائی اقدامات پر اُتر جائیں جس سے براہ راست معشیت کو نقصاں پہنچے۔‘


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.