قبر کے اندر سے نوجوان کی آوازیں آنے کا معاملہ ۔۔ قبرستان میں لوگوں کا رش لگ گیا، وہاں لوگوں نے کیا دیکھا؟

image

قبر ویسے تو انسان کی آخری آرام گاہ ہوتی ہے مگر اس کا سوچ کر ہی انسان کی روح کانپ جاتی ہے۔جب قبر میں مردے کو اتارا جاتا ہے تو اس کے لیے فاتحہ خوانی، درود شریف اور قرآنِ پاک کی تلاوت کی جاتی ہے تاکہ اسے اندر کوئی مشکلات درپیش نہ ہوں۔ یہاں قبر کی بات ہورہی ہے تو پنجاب میں ایک ایسا عجیب و غریب طرز کا واقعہ پیش آیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ ایک مشہور قبرستان میں موجود ایک قبر سے نوجوان کی آوازیں سنی گئیں، اہل علاقہ کے مطابق نوجوان کو چند ماہ قبل موت ہوئی تھی۔ اور دفنانے کے کچھ ہفتوں بعد جس کے بعد قبرستان کے قریب سے گزرنے والے لوگوں نے اسی قبر سے آوازیں سنی۔ رپورٹ کے مطابق نوجوان کا نام شبیر بتایا گیا ہے۔مختلف ویب چینلز کی جانب سےچوں کے علاقے پیر بھولے شاہ قبرستان کا دورہ کیا گیا یہ جاننے کے لیے کہ وہاں کیا واقعی قبر سے آوازیں سنی گئیں۔ اس واقعے کے بعد پولیس کو مطلع کیا گیااور وہ قبرستان پہنچی جس کے بعد اُنہوں نے لوگوں کو قبر سے دور ہٹایا۔نوجوان کے لواحقین یعنی گھر والے ان کا کہنا ہے کہ قبر کشائی کی جائے۔ خبر کے مطابق 25 جولائی کو نوجوان فوت ہوا تھا جسے پیر بھولے شاہ قبرستان لاکر دفن کیا گیا۔نوجوان کی بھابی کے مطابق جنہوں نے روزنامہ اوصاف کے چینل کو انٹرویو دیا انہوں نے کہا کہ میں صبح ڈیوٹی پر جانے سے پہلے یہاں اور قبر پر ہاتھ رکھ کر محسوس کیا کہ کوئی اندر سے چیز کھڑکا رہی ہے۔آوازیں نوجوان کے بھائی کو سنائی دی گئی ہیں۔ خاتون نے بتایا کہ سب لوگ یہی کہتے ہیں کہ لڑکا زندہ ہے۔ خاتون کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کو نوجوان خواب میں آکر کہتا ہے کہ میں زندہ ہوں مجھے باہر نکالو۔نوجوان کی بھابھی کا کہنا تھا کہ وہ سریے کے جال بنانے کا کام کرتا تھا۔ نوجوان کا اہلیہ نے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ میں نے بھی آوازیں سنی ہیں۔ایک اور ویب چینل کے نمائندے نے وہاں جاکر اس حوالے سے تفتیش کی اور قبر کے اندر سے آنے والی آوازوں کے بارے میں بتایا۔ رپورٹر کے مطابق قبر کے اندر سے دھیمی آوازیں آرہی جیسے اندر سے کوئی کھڑکھڑا رہا ہو۔ ویڈیو دیکھیں۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
پاکستان کی خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.