گھروالوں نےعانیہ عامر کو کیوں عاق کیا۔۔ ادکارہ کی کی نجی زندگی سے متعلق تہلکہ خیز انکشافات، کتنا مشکل وقت دیکھا ؟خود ہی بتادیا

image

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کی معروف اداکارہ ہانیہ عامر نے شوبز کیرئیر اپنانے کے بعد پیش آنے والی مشکلات کا ذکر کیا ہے۔اداکارہ ہانیہ نے نجی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو کے دوران کیرئیر سمیت زندگی میں پیش آنے والے مختلف حالات اور واقعات پر گفتگو کی جب کہ اس دوران اداکارہ نے شوبز کیرئیر اپنانے کے بعد خاندان کی جانب سے قطع تعلقی کا بھی انکشاف کیا۔ہانیہ نے بتایا کہ جب وہ چھوٹی تھیں تو ان کے والدین میں علیحدگی ہوگئی تھی اس کے بعد کئی جگہ گھو میں لیکن پھر اپنی والدہ اور چھوٹی بہن کے ساتھ رہنے لگیں، شروعات میں ان کے ننھیال کی جانب سے انہیں خاصا سپورٹ کیا گیا۔ہانیہ نے فلم جاناں سے شوبز کیرئیر کا آغاز کیا اور اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب میں نے فلم جاناں کے لیے آڈیشن دیا تو میری سلیکشن ہاتھوں ہاتھ ہوگئی اور مجھے کنٹریکٹ بھی تھمادیا گیا جس پر میں نے بغیر پڑھے ہی دستخط کردیے تھے اور جب والدہ کو گھر آکر بتایا کہ فلم سائن کردی ہے تو وہ حیران ہوگئیں اورماموں کا ردعمل کا سوچ کر انکار کردیا۔انیہ نے بتایا کہ اس کے بعد میں نے والدہ کو منایا کہ فلم اب سائن کی جاچکی ہے اس کے بعد کوئی فلم نہیں کروں گی لیکن یہ فلم کرنے دیں لہٰذا والدہ یہ کہہ کر مان گئیں کسی کو پتا نہ چلے ۔اداکارہ نے مزید بتایا کہ میں نے والدہ کے منع کرنے پر بھی شوٹنگ کے حوالے سے ویڈیوز روزانہ انسٹا پر پوسٹ کرنا شروع کردیں اس کے بعد ماموں اور خاندان کے دیگر افراد گھر آئے، تلخ کلامی ہوئی ، عزت پر بھی بات آئی اور لڑائی ہوئی جس کے بعد خاندان میں دشمنی پھیل گئی۔ہانیہ عامر نے کہا کہ اس واقعے کے بعد میں نے اپنی فیملی کی ذمہ داریاں خود اٹھانے کا فیصلہ کیا اور جب سے اب تک میں اپنا گھر خود چلا رہی ہوں، یہی وجہ ہے کہ میں چھوٹی عمر سے ہی دونوں کی ذمہ داریاں اٹھارہی ہوں۔اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ اب رشتہ دار ملتے ہیں لیکن دوریاں موجود ہیں، آج بھی میں بڑی اسٹار ہوں لیکن فیملی مجھے بڑا اسٹار نہیں سمجھتی۔


News Source   News Source Text

مزید خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.