bbc-new

افغانستان میں قاتل کو مقتول کے باپ نے سرعام سزائے موت دے دی: طالبان

افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان نے پہلی مرتبہ کسی سزایافتہ مجرم کو سرِ عام سزا دی ہے جب مقتول کے والد کو قتل کے جرم میں سزایافتہ شخص کو سرِ عام گولی مار کر ہلاک کرنے کی اجازت دی گئی۔
picture
Getty Images

افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان نے پہلی مرتبہ کسی سزایافتہ مجرم کو سرِ عام سزا دی ہے جب مقتول کے والد کو قتل کے جرم میں سزایافتہ شخص کو سرِ عام گولی مار کر ہلاک کرنے کی اجازت دی گئی۔

طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس شخص کو جنوب مشرقی فرح صوبے میں لوگوں سے بھرے ہوئے کھیلوں کے سٹیڈیم میں ہلاک کیا گیا تھا۔ طالبان کے ترجمان کی جانب سے بعد میں جاری کیے گئے بیان کے مطابق اس دوران مقتول کے والد نے اس شخص کو تین مرتبہ گولی ماری۔ اس موقع پر درجنوں طالبان رہنما موجود تھے۔

یہ واقعہ طالبان کی جانب سے ججوں کو شریعہ قانون کا مکمل نفاذ کرنے کی ہدایت جاری کرنے کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔

طالبان کے رہبرِ اعلیٰ ہیبت اللہ اخونزادہ نے یہ ہدایت نامہ گذشتہ ماہ جاری کیا تھا جس میں ججوں سے سزائیں نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔ ان سزاؤں میں سرِ عام موت کی سزائیں، ہاتھ کاٹنے اور سنگسار کرنے کی سزائیں شامل ہیں۔

تاہم طالبان کی جانب سے ان جرائم اور ان سے متعلق سزاؤں کے بارے میں طالبان کی جانب سے باضابطہ طور پر تشریح نہیں کی گئی۔

اب تک سرِ عام کوڑے مارنے  کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں جن میں درجنوں افراد کو لوگر صوبے میں ایک بھرے ہوئے فٹبال سٹیڈیم میں کوڑے مارنے کا واقعہ شامل ہے۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ طالبان کی جانب سے عوامی طور پر کسی کو سرِعام سزا دینے کے اقدام کو قبول کیا گیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق سزا دیے جانے کے دوران متعدد سپریم کورٹ جسٹس بھی وہاں موجود تھے۔ ان کے علاوہ فوجی افسران اور سینیئر وزرا بھی موجود تھے جن میں وزیرِ قانون، خارجہ اور داخلہ شامل ہیں۔

تاہم اس دوران وزیرِ اعظم حسن اخند وہاں موجود نہیں تھے۔

khawateen
Getty Images

’طالبان میرے پاس آئے اور اس شخص کو معاف کرنے کی درخواست کرتے رہے‘

طالبان کے مطابق ہلاک کیے گئے شخص کا نام تاج میر ہے جو غلام سرور کا بیٹا ہے اور ہیرات صوبے کا رہائشی ہے اور انھوں نے مصطفیٰ نامی شخص کو پانچ برس قبل چاقو مار کر ہلاک کیا تھا۔

انھیں بعد میں تین طالبان عدالتوں نے سزا دی تھی جس کی تصدیق ملا اخونزادہ نے کی تھی۔

اس سرِ عام سزا سے قبل ایک پبلک نوٹس جاری کیاگیا تھا جس کے تحت اس ایونٹ کی تشہیر کی گئی تھی اور ’لوگوں کو کھیل کے میدان میں آنے کی دعوت دی گئی تھی۔‘

مقتول کی والدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان رہنماؤں نے ان سے قاتل کو معاف کرنے کے لیے کافی زیادہ منتیں کیں لیکن انھوں نے ان کے سرِ عام قتل کے مطالبے پر زور دیا۔ 

انھوں نے کہا کہ ’طالبان میرے پاس آئے اور اس شخص کو معاف کرنے کی درخواست کرتے رہے۔ انھوں نے مجھے اللہ کے کے لیے اس شخص کو معاف کرنے کا کہا لیکن میں نے ان سے کہا کہ اس شخص کو فوری طور پر قتل کرنا ضروری ہے اور اسے ایسے ہی دفن کیا جائے جیسے اس نے میرے بیٹے کو کیا تھا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ دوسرے افراد کے لیے عبرت کی باعث ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اسے آج نہیں مارو گے تو وہ مستقبل میں مزید جرم کرے گا۔‘

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریز نے اس بارے میں ’گہرے افسوس‘ کا اظہار کیا ہے۔

ان کی ترجمان سٹیفنی ٹریمبلے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم افغانستان میں سزائے موت پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘

سنہ 1996 سے 2001 کے درمیان طالبان کو سرِعام سزائیں دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس دوران دارالحکومت کابل کے نیشنل سٹیڈیم میں سزائے موت دی گئی تھی۔

طالبان نے اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ وہ خواتین پر ہونے والے مظالم کی روش کو نہیں دہرائیں گے۔ تاہم ان کی جانب سے اقتدار پر قبضے کے بعد سے خواتین کی آزادی پر قدغنیں لگائی گئی ہیں اور متعدد خواتین کو اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس وقت کسی بھی ملک نے طالبان کی نئی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے اور عالمی بینک نے طالبان کی جانب سے لڑکیوں کے سیکنڈری سکولوں میں جانے پر پابندی عائد کرنے کے بعد ان کے چھ سو ملین ڈالر منجمد کر دیے ہیں۔  

امریکہ کی جانب سے افغانستان کے مرکزی بینک کو دنیا بھر کے اکاؤنٹس میں موجود رقوم منجمد کر دی گئی ہیں۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
تازہ ترین خبریں
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.