اتنا بھی نہیں ناداں یہ ، بات سمجھتا ہوں
Poet: اخلاق احمد خان By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiاتنا بھی نہیں ناداں یہ ، بات سمجھتا ہوں
محبت کی بھی ہوتی ہیں ، ضروریات سمجتا ہوں
ساتھ جینے مرنے کی باتیں ہیں کتابی سب
میں اس شکمِ جہنم کے ، توہمات سمجھتا ہوں
قدرت کی کسی شۓ میں نقص دِکھتا نہیں مجھ کو
میں کاٸیں کاٸیں کو بھی ، نغمات سمجھتا ہوں
بد گوٸیاں بھی سہہ جاتا ہوں ہنس کر
دُشنامی کو تربیتی ، کلمات سمجھتا ہوں
تم محض کام سے جی مو نہ سکو گے
میں ان افسروں کی ، نفسیات سمجھتا ہوں
خوشامد ، مدح سراٸی ، چرب زبانی ، چاپلوسی
میں اِن سبھی زینوں کو ، واہیات سمجھتا ہوں
جَہل نے مَکر کو مانا ہے پیشوا
مُرشد میں تیرے ، کمالات سمجھتا ہوں
جاۓ خدا میں بھی چاہتا ہے شراکت تو
اے دل میں تیری ، ترجیحات سمجھتا ہوں
پہلے کاٹیں گے اہلِ علم سے پھر گمراہ کریں گے
میں اس مادر پدر آزادی کے ، نظریات سمجھتا ہوں
وباٸیں گر اَرض سے اٹھ بھی جاٸیں تو
تادیر رہتے ہیں ان کے ، اثرات سمجھتا ہوں
جانوں اگر قہر تو توبہ کا قَصد ہو
اخلاق میں کب حالات کو ، آفات سمجھتا ہوں
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






