اضطرابیِ دل کا کوئی ، حل ہی بتاؤ
Poet: اخلاق احمد خان By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiاضطرابیِ دل کا کوئی ، حل ہی بتاؤ
اسیرِ زٗلفِ یار نہ سہی ، مقتل ہی بتاؤ
جو بھڑکی ہوئی آتشِ سینے کو بُجھادے
برستا ہوا ایسا کوئی ، بادل ہی بتاؤ
کسی یاد میں دھڑکے ہوئے دل کی خبر دو
کوئی آنکھ سے بہتا ہوا ، کاجل ہی بتاو
انسانوں کی بستی میں سامانِ ہلاکت ہے
امان میں رہنے کو ، جنگل ہی بتاو
رونے کے لئے باپ کا کاندھا مجھے دیدو
چٗھپنے کے لئے ماں کا ، آنچل ہی بتاو
جزبات کو کُچل کر دنیا کمانے والوں
کبھی جی ہو جسمیں زندگی وہ ، پَل ہی بتاؤ
شجرِ گمراہی سے بدتر نہیں بُو کوئی
مگر تم نسلِ نَو کو ، صندل ہی بتاؤ
چشمِ غبارِ کو شگافِ فلک کہہ دو
سخت زمین کو تم ، دلدل ہی بتاؤ
بازار میں اب وہ ہیرے ہیں نہ جوہری
ریشمی کپڑے کو تم ، ململ ہی بتاؤ
فہمِ معرفتِ الہیٰ دل سے نکال کر
علم کا میدان بس ، جل تھل ہی بتاؤ
اخلاق طبیعت پر گراں ہیں یہ چُبتے ہوئے سوال
جواب آج نہیں تو ان کے ، کل ہی بتاؤ
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






