خود کو بیج دیتے ہیں

Poet: اخلاق احمد خان
By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachi

روپے ، منصب کے ، بدلے میں خود کو بیچ دیتے ہیں
کچھ لوگ کتنا ، سستے میں خود کو بیج دیتے ہیں

شہرِ حَوس میں اِفلاس کا یہ عالم ہے
لوگ ٹکے ٹکے ، میں خود کو بیچ دیتے ہیں

کچھ اُصول بیچ کر خرید لاتے ہیں خواہشیں
کچھ خوف کے ، غلبے میں خود کو بیچ دیتے ہیں

نام و نمود کے پردے پر دِکھنے کے لۓ
لوگ ، پردے میں خود کو بیچ دیتے ہیں

ہم یہاں راہ تکتے ہیں منزلوں پر
اور مسافر ، رستے میں خود کو بیچ دیتے ہیں

کبھی عشق ، کبھی رزق ، کبھی مجبوری کے نام پر
ہم کس کس ، دھوکے میں خود کو بیچ دیتے ہیں

جن دیواروں تلے دب کر مرے ہیں ، چلو آج
اُسی احساس کے ملبے میں خود کو بیچ دیتے ہیں

کچھ نۓ کی چاہت نے قیمت ہی گھٹاٸی ہے
چلو کہ دام ، پچھلے میں خود کو بیچ دیتے ہیں

رہ گۓ تنہا تو کوٸی مفت میں نہ لے گا
ابھی سلسلہ ہے ، سلسلے میں خود کو بیچ دیتے ہیں

اعزازِ مسلم نے ہمیں انمول کیا اور ہم
بنٹ کر ، فرقے میں خود کو بیچ دیتے ہیں

”اخلاق“ یہ بے مول دنیا اُسے کب خرید سکتی ہے
جو گِر کر ، سجدے میں خود کو بیچ دیتے ہیں

Rate it:
13 Aug, 2020

More General Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Akhlaq Ahmed Khan
Visit 119 Other Poetries by Akhlaq Ahmed Khan »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City