رُخصتِ نظر سے ہجر کا ، عزاب لکھ کر چلا گیا
Poet: اخلاق احمد خان By: Akhlaq Ahmed Khan, Karachiرُخصتِ نظر سے ہجر کا ، عزاب لکھ کر چلا گیا
کہا کچھ نہیں اس نے ، جواب لکھ کر چلا گیا
وہ جو کہتا تھا میری ہر اک سانس تمہاری ہے
جاتے جاتے ہر لفظ کا ، حساب لکھ کر چلا گیا
جسے ہر بھنور میں تھامے رکھا میں نے
وہی تقدیر میں ، گرداب لکھ کر چلا گیا
تصویرِ جزبات کے رنگ سمجھ نہ سکا تو
دل ہے تیرا ، خراب لکھ کر چلا گیا
رہنماء وطن کے سب ہی اردو سے عاری تھے
سُو انگریزی دان انکا ، خطاب لکھ کر چلا گیا
سببِ رخصتِ حیاء جو مُلّا سے پوچھا تو
دبے لفظوں میں ترکِ ، حجاب لکھ کر چلا گیا
پڑھ پڑھ کتابیں ذوقِ تحقیق اجاگر نہیں ہوتا
یہ کون قوم کا ، نصاب لکھ کر چلا گیا
جواں کو کیا نسبت تیرے ذوقِ تخیل سے
جانے کیوں اقبال ، کتاب لکھ کر چلا گیا
تدبّر و تفکّر بھی امام کا ہی شیوہ تھا
کون محض ممبر و ، محراب لکھ کر چلا گیا
اخلاق یوں تو ظلم میں حجاج کی نزیر نہیں ہے
مگر وہی قرآن میں ، اعراب لکھ کر چلا گیا
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






