میں نہیں بتاؤں گا

Poet: سرور فرحان سرور
By: Sarwar Farhan Sarwar, Karachi

زیست میں جو سیکھا ہے اب نہیں بھلاؤں گا
مسکرا کے جیئوں گا، اشک کب بہاؤں گا؟
تجربات کو اپنے، جگ سے میں چھپاؤں گا
جانتا ہوں سب لیکن "میں نہیں بتاؤں گا"

کون سا ہے فیشن in, مجھ کو علم ہے سب کا
رات ہے یا جگ میں دن، مجھ کو علم ہے سب کا
پوچھتے ہیں لوگ مجھ سے، کیا انہیں سکھاؤں گا؟
جانتا ہوں سب لیکن "میں نہیں بتاؤں گا"

کس کا کس سے پھڈا ہے؟ کون ہے کس چکر میں؟
کون کس سے دبتا ہے؟ کون ہے کس ٹکر میں؟
لوگ سوچتے ہیں یہ 'پردہ کب اٹھاؤں گا؟'
جانتا ہوں سب لیکن "میں نہیں بتاؤں گا"

روس ہو یا امریکہ، چین یا افریقہ ہو
باخبر ہوں رسموں سے منگنی یا عقیقہ ہو
میں خبر کی مسند پہ گل نئے کھلاؤں گا
جانتا ہوں سب لیکن "میں نہیں بتاؤں گا"

پیٹھ میں ہے کھجلی کیوں؟ معدے میں کیوں اینٹھن ہے؟
کس بناء پہ سر درد ہے؟ کیوں بھلا انفیکشن ہے؟
اطباء کے مطب کو تالے میں لگواؤں گا
جانتا ہوں سب لیکن "میں نہیں بتاؤں گا"

شہر بھر میں کچرا ہے، صفائی کا ہے کیوں فقدان؟
کون ہے فرشتہ اور کون اندر سے شیطان؟
نوٹ کے بدلے میں اب ووٹ میں بھگتاؤں گا
جانتا ہوں سب لیکن "میں نہیں بتاؤں گا"

کھول کر نیا چینل، جہالتیں پھیلاؤں گا
روز و شب فقط اپنی بانسری بجاؤں گا
اپنی اہمیت سرور ہر جگہ جتاؤں گا
جانتا ہوں سب لیکن "میں نہیں بتاؤں گا"

Rate it:
08 Apr, 2020

More General Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Sarwar Farhan Sarwar
I have been teaching for a long time not because teaching is my profession but it has been a passion for me. Allah Almighty has bestowed me success i.. View More
Visit 95 Other Poetries by Sarwar Farhan Sarwar »

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City