وہ جو شہ رگوں سے بھی پاس ہے

Poet: بنت لیاقت
By: بنت لیاقت, Sargodha

کبھی یاد کر وہ بے رخی
تیری ذات کا جو اساس ہے

کبھی جان لے اس ذات کو
وہ جو ذات تیرے بہت پاس ہے

کبھی یوں بھی کر کہ تو مانگ لے
وہ جو شہ رگوں سے بھی پاس ہے

کبھی بات کر بھی تُو اس طرح
کہ وہ رشتہ تو کچھ خاص ہے

کبھی سوچ بھی تو اس بات پر
کیوں روح تیری یوں اداس ہے

کیوں کہ رابطے ہیں اس سے ذرا ذرا
وہ جو دھڑکنوں کی اساس ہے

اس سے دوریوں میں ہیں تلخیاں
اس کی قربتوں میں مٹھاس ہے

میرے لفظوں میں ہے بہت کمی
میری محبتوں میں اک پیاس ہے

میں لکھوں یہ سب کچھ تو کسطرح
میرا قلم بھی تو بہت حساس ہے

ان عبادتوں سے ذرا پرے
میری بندگی میں اخلاص ہے....
وہ جو شہ رگوں سے بھی پاس ہے

Rate it:
09 Apr, 2021

More General Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS
About the Author: بنت لیاقت
Visit Other Poetries by بنت لیاقت »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>