کبھی کبھی کچھ اجنبی کتنے اپنے لگتے ہیں

Poet: UA
By: UA, Lahore

کبھی کبھی کچھ اجنبی کتنے اپنے لگتے ہیں
کبھی سپنوں کی تعبیر کبھی سپنے لگتے ہیں

وہ جو آنکھوں کو ساری دنیا سے پیارا لگتا ہے
اس کے نام کی مالا دِل کے تار جپنے لگتے ہیں

جِن سے روح کا رشتہ وابستہ ہو جائے ان کے
سب خال و خط بھی نظروں میں جچنے لگتے ہیں

حسنِ ازلی کے جلوے کا پرتو د۔ل پہ پڑ جائے تو
سارے حسینوں کے چہرے پھر دبنے لگتے ہیں

سحر کی چاندی پھیلنے سے پہلے کھلیانوں میں
دہقانوں کے ہل دھرتی پر چلنے لگتے ہیں

رنگ برنگے پنچھی پیڑوں پر چہچہاتے ہیں
کانوں میں کوئل کے نغمے بجنے لگتے ہیں

عظمٰی صبح کا منظر نِکھرا نِکھرا سا لگتا ہے
شبنم میں دھل کر گل بوٹے سجنے لگتے ہیں

Rate it:
22 Jul, 2013

More General Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS
About the Author: uzma ahmad
sb sy pehly insan phr Musalman and then Pakistani
broad minded, friendly, want living just a normal simple happy and calm life.
tmam dunia mein amn
.. View More
Visit 3457 Other Poetries by uzma ahmad »