کسی نے جوش یا جذبہ اُبھارا ، مارا جائے گا

Poet: نویدؔ ستاری
By: Naveedsattari, Muzaffargarh

کسی نے جوش یا جذبہ اُبھارا ، مارا جائے گا
مدد کو جوکئی اب کے پُکارا ، مارا جائے گا

جو جیتا اب لڑائی میں وہی زندہ رہے گا بس
یہاں مدِ مقابل سے جو ہارا، مارا جائے گا

فقط اعمال ہی زندہ رہیں گے رہتی دنیا تک
کوئی جتنا بھی ہے پیارے سے پیارا ، مارا جائے گا

مجھے پہلے بھی سولی پر اسی سچ نے چڑھایا تھا
مجھے لگتاہے مجھ کو اب دوبارہ ، مارا جائے گا

جو اپنی حد سے آگے بڑھنے کی کوشش کریگا تو
ہر اِ ک شیطان کے سرپر ستارا ، مارا جائے گا

کوئی روزی کو نکلا تھا ، کوئی تعلیم کی خاطر
خبر کس کو تھی کہ ایسے بچارا ، مارا جائے گا

نویدہرزا سرائی کہتے ہیں اس کو جہاں والے
کوئی حق کیلئے اب کے پکارا ، مارا جائے گا

Rate it:
19 Nov, 2020

More General Poetry

POPULAR POETRIES

FAMOUS POETS

About the Author: Naveedsattari
Visit 8 Other Poetries by Naveedsattari »
Currently, no details found about the poet. If you are the poet, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City
Language:    

My Page! Account Login:

(Post your Comments Immediately)
Email
Password
Do not have MyPage! account? Create Now

Guest Login:

(Comments will be online after Moderator Review)
Name
Email
City