یہ لاج یہ پردہ تو دکھانے کو ملا ہے
Poet: Naimat waseem sajid By: Naimat, rajanpurﯾﮧ ﻻﺝ ﯾﮧ ﭘﺮﺩﮦ ﺗﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﻓﻦ ﺑﺮﺍﮰ ﺭﯾﺖ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮨﮯ
ﺍﻥ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻻﺝ ﻧﮧ ﺁﺉی
ﺍﺷﮑﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺐ ﺳﮯ ﺟﻼﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮨﮯ
ﺯﺭﺩﺍﺭ ﺳﺘﻢ ﮔﺮ ﮐﯽ ﺩﻟﺪﺍﺭﯼ ﻭﺍﺳﻄﮯ
ﮔﮭﻨﮕﮭﺮﻭ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﻮ ﺳﺠﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮨﮯ
ﺑﯿﭽﺎﺭﮔﯿﺊ ﺯﯾﺴﺖ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺍﻟﻤﯿﮧ ﺭﮨﺎ
ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﻼ ﮨﮯ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮨﮯ
ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺩﺍﺭ ﺗﻮ ﺷﺎﮐﺮ ﮨﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ
ﻧﺎﺩﺍﺭ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺑﻮﺟﮫ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮨﮯ
ﺩﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﺎﺩﺍﺭ ﮐﺎ ﭼﮩﺮﮦ ﮐﮭﻼ ﮐﮭﻼ
ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺑﭽﺎ ﮐﭽﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﻮ ﻣﻼﮨﮯ
ﺑﺲ ﺍﺩﮪ ﻧﻨﮕﺎ ﺑﭽﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻧﺎﺩﺍﺭ ﮐﺎ ﻧﻌﻤﺖ
ﺧﻮﺵ ﮬﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﻋﻨﻮﺍﻥ ﻓﺴﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻣﻼ ﮨﮯ
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






