خیالوں میں رہے گے یا جاگتے رہے گے

Poet: جگپریتؔBy: جگپریتؔ, Kashmir

خیالوں میں رہے گے یا جاگتے رہے گے
کب تک،ہم سچاںئ سے بھاگتے رہے گے

تم زندگی کا گُل بھی،کُنجا،شجر بھی،
اُبھروں گے واپس،کب تک کاٹتے رہے گے-

بد نسیبی چاہے کچھ بھی کھیل کھیلے،
ہم نسیب کو اس میں جھانکتے رہے گے-

میری قلم کو جب تک نہ ملےگی سیاہی،
ہم تجھسے تیری دید کو مانگتے رہے گے-

اصل زندگی میں چاہے مُنہ موڑ لے تو،
پر ہم تیرے نکلی خواب دیکھتے رہے گے-

لُوٹنا کب ہے تجھ کو چند خوشیوں سے،
ہم دن رات،ہر گھڑی،لمحہ پکارتے رہے گے-

تجھے پانے میں سب سے بڑا مسلا یہ ہے،
تجھے روز مقرر، کھونے سے ڈرتے رہے گے-

جگپریتؔ نے بھی ایک مدت کے باد بدلنا ہے،
کب تک میری جانِ ادا یاد میں مرتے رہے گے-

 

Rate it:
Views: 181
28 Nov, 2021