ٹوٹ کر بکھرے ہیں جب بھی آئنے

Poet: Amer RoohaniBy: Amer Roohani, Islamabad

ٹوٹ کر بکھرے ہیں جب بھی آئنے
میرے لاکھوں روپ آئے سامنے

میں زمیں پر سے زمیں میں جا گرا
آسماں آیا تڑپ کر تھامنے

کھو گیا ہے میرے اندر ہی کہیں
وقت آیا تھا سمندر ماپنے

دل کے چرخے پر غموں کی راگنی
پھر لگی یادوں کے تاگے کاتنے

دل نے ساقی کی " تسلّی" مان لی
آگ کو جا کر بجھایا آگ نے

زرد شاموں میں دسمبر کی ہوا
چل یڑی ٹھنڈے بدن کو داغنے

اسکی یادوں کے شبینہ جشن پر
آ گئے آنسو لپک کر ناچنے

شام ہوتے ہی امـؔر مجھ پر کھلا
روشنی آئی تھی ظلمت بانٹنے

Rate it:
Views: 227
17 Sep, 2021