گھر سے میں جب بھی اکیلا نکلا

Poet: قیصر صدیقیBy: تلال, Multan

گھر سے میں جب بھی اکیلا نکلا
مجھ سے پہلے مرا سایہ نکلا

پھاڑ کر دامن صحرا نکلا
میرے اندر سے جو دریا نکلا

اک تبسم جو ملا تھا مجھ کو
وہ بھی اک زخم تمنا نکلا

جس پہ کل سنگ ملامت برسے
آج وہ دار پہ عیسیٰ نکلا

آئنہ دیکھا جو عریاں ہو کر
جسم ہی جسم کا پردا نکلا

جس نے یہ بھیڑ لگا رکھی تھی
خود وہ اس بھیڑ میں تنہا نکلا

چہرہ ایجاد ہے آئینے کی
آئنہ نکلا تو چہرہ نکلا

آج اک خط کو جو کھولا قیصرؔ
اس میں سورج کا سراپا نکلا

Rate it:
Views: 342
21 Jan, 2022