فضاؤں سے گزرتا جا رہا ہوں

Poet: قیصر صدیقی By: ایاز, Rawalpindi

فضاؤں سے گزرتا جا رہا ہوں
خلاؤں میں بکھرتا جا رہا ہوں

میں ریگستان میں بیٹھا ہوں لیکن
سمندر میں اترتا جا رہا ہوں

زمانہ لمحہ لمحہ جی رہا ہے
میں لمحہ لمحہ مرتا جا رہا ہوں

وہ جتنے دور ہوتے جا رہے ہیں
میں اتنا ہی سنورتا جا رہا ہوں

چلا ہوں اپنے سے دو ہات کرنے
مگر خود سے بھی ڈرتا جا رہا ہوں

میں نقطہ بن کے اک مرکز پہ یارو
نہ جانے کیوں ٹھہرتا جا رہا ہوں

مٹانے پر بھی میں اردو کی مانند
سنورتا اور نکھرتا جا رہا ہوں

میں کالی جھیل میں ڈوبا تھا خود ہی
مگر خود ہی ابھرتا جا رہا ہوں

میں قیصرؔ اپنی آنکھوں سے ٹپک کر
کسی دل میں اترتا جا رہا ہوں

Rate it:
Views: 681
21 Jan, 2022
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL