میں اب کے لوٹوں گا ساتھ لے کر

Poet: ڈاکٹر زوہیب ارشدBy: ڈاکٹر زوہیب ارشد, Multan

میں اب کے لوٹوں گا ساتھ لے کر
چمن کے پھولوں کی مسکراہٹ

افق پے قوس قزاح کا منظر
ندی کے پانی کی سرسراہٹ

عجیب وحشت ہے ساری بستی
خواب غفلت میں سو گئی ہے

چمکتے تاروں کی روشنی بھی
کہیں اندھیروں میں کھو گئی ہے

میں موڑ لاؤں گا یاد رکھنا
وہ جگنؤں کے جو کارواں تھے

میں ڈھونڈ لاؤں گا وہ ستارے
جو اپنے رستوں کی کہکشاں تھے

جو عہد تم سے کیا تھا میں نے
لو آج میں وہ نبھا رہا ہوں

میں روشنی کا سراغ پانے
کہیں اندھیروں میں جا رہا ہوں

Rate it:
Views: 129
26 Nov, 2021