نشہ

Poet: ذولفقار حیدر پرواز By: Zulfiqar Haider Parwaaz, Karachi

 ہر دو قدم پہ یارو گرتے ہیں لڑکھڑا کے
وہ لوگ جو نشے میں چلتے ہیں سر اُٹھا کے

سمجھائیںکسطرح سےنادان و ناسمجھکو
خود کو مٹا رہے اپنا لہو جلاہیں کے

عادی ہے جو نشے کے ان کو نہیں یہ احساس
ہونگے نہ مستحق وہ ماں باپ کی دعا کے

کچھ دیر کی ہے لزت کچھ دیر کا مزہ ہے
کیا فائدہ اے یارو خود کے تئیں مٹا کے

دنیا و دین دونوں تاریک کر رہے ہیں
شمعِ حیات اپنی ہاتھوں سے خود بجھاکے

پروردگار انکو توفیق دے اے حیدر
پرواز ہو رہے ہیں جو دوش پر ہوا کے

Rate it:
Views: 504
11 Jun, 2016