وہ رخصت کی گھڑی وہ دیدۂ نم یاد آتے ہیں

Poet: قیصر صدیقیBy: ایاز, Rawalpindi

وہ رخصت کی گھڑی وہ دیدۂ نم یاد آتے ہیں
نہ جانے آج کیوں بھولے ہوئے غم یاد آتے ہیں

یہ چشم دوست کی سازش نہیں تو اور پھر کیا ہے
کہ میرے مندمل زخموں کے مرہم یاد آتے ہیں

ہوا ہے جب سے دل صید ستم ہائے غم دوراں
وہ یاد آتے تو ہیں لیکن بہت کم یاد آتے ہیں

یہاں ہم غم غلط کرنے کو آئے تھے مگر ساقی
قیامت ہے کہ میخانے میں بھی غم یاد آتے ہیں

کوئی جب چھیڑتا ہے قصۂ دار و رسن قیصرؔ
تو دیوانوں کو ان کی زلف کے خم یاد آتا ہے

Rate it:
Views: 1496
21 Jan, 2022