نہ ہو کوئی بات پِھر بھی بات کِیا کرے کوئی
Poet: عبّدُالجَبّار By: Abdul Jabbar Larik, Daharkiنہ ہو کوئی بات پِھر بھی بات کِیا کرے کوئی
تاحیات خُوشی کی سوغات دِیا کرے کوئی
آ کر زِندگی میں پھر کیوں تنہا کرے کوئی
ایسے میں کیسے بتاؤ بھلا جِیا کرے کوئی؟
تنہا تنہا راتوں میں اگرچہ خیال سُنہرے ہوں
ایسے خیالوں سے کیونکر ڈرا کرے کوئی
موج در موج دریا کی پُر جوش روانی میں
راہ خود بن جائے موسیٰ جیسی دُعا کرے کوئی
بن جائے حصہؑ تاریخ پِھر نہ کوئی مِٹا سکے
داستانِ محبت میں ایسی وفا کرے کوئی
اہشکستہ ہے دل کوئی تو طبیب کو بلاؤ
زیرِ عِلاج ہے دل کُچھ تو دوا کرے کوئی
بےمعنیٰ سی گُزار دی زیست عدم بن کر
کِس حٙیا سے اب خُدا کو سجدہ کرے کوئی
اِس دُنیا میں صبر و شُکر سے ہمنے بسر کر لی
یہی وقت ہے اب اجل کو صدا کرے کوئی
چند سانسیں ہیں دی ہوئی اُسی کی ہیں
حق تو یہ ہے اسی کا حق ادا کرے کوئی
خود بھی میسر نہیں خود کو ہم عبّدُل
کبھی تو کوئی ہمارا بھی ہُوا کرے کوئی..
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






