Poetry in Urdu, Best Shayari & Famous Ghazal
Urdu poetry is a beautiful way to convey great emotions, love, and life experiences. Poetry in Urdu has moved hearts for ages with its lovely language and significant lines. Great Urdu poets like Allama Iqbal, Mirza Ghalib, Faiz Ahmed Faiz, and Ahmad Faraz have made a lasting impact with their unforgettable Urdu shayari. Sher o Shayari speaks personally with readers, from sad moments to romantic lines. Every day, poetry inspires and moves its readers, whether it be classical poets or modern voices. Explore heartfelt poetry in Urdu text and image to feel the depth of emotions and connect with timeless expressions.
Urdu Poetry of the Day
آ تجھے میں گنگنانا چاہتا ہوں
کوئی آنسو تیرے دامن پر گرا کر
بوند کو موتی بنانا چاہتا ہوں
تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں
چھا رہا ہے ساری بستی میں اندھیرا
روشنی کو، گھر جلانا چاہتا ہوں
آخری ہچکی ترے زانو پہ آئے
موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں
قتیل شفائی لفظ میرے مرے ہونے کی گواہی دیں گے
لوگ تھرا گئے جس وقت منادی آئی
آج پیغام نیا ظل الٰہی دیں گے
جھونکے کچھ ایسے تھپکتے ہیں گلوں کے رخسار
جیسے اس بار تو پت جھڑ سے بچا ہی دیں گے
ہم وہ شب زاد کہ سورج کی عنایات میں بھی
اپنے بچوں کو فقط کور نگاہی دیں گے
آستیں سانپوں کی پہنیں گے گلے میں مالا
اہل کوفہ کو نئی شہر پناہی دیں گے
شہر کی چابیاں اعدا کے حوالے کر کے
تحفتاً پھر انہیں مقتول سپاہی دیں گے
پروین شاکر گیسو غزل کے تھوڑے سنوارے گئے تو ہیں
کھینچا ہے کہکشاؤں نے اپنی طرف ہمیں
لگتے ہیں ہاتھ کتنے ستارے، گئے تو ہیں
جاری تھی جنگ ضد کی خداؤں کے درمیاں
بے وجہ لوگ بیچ میں مارے گئے تو ہیں
سنتے ہیں آج شاہ پہ رغبت عطا کی ہے
ہوتا ہے کیا نصیب، پکارے گئے تو ہیں
دریا سے کتنی پائی ہے دریا دلی کی خُو
کہنے کو بار بار کنارے گئے تو ہیں
لاتا ہے کون دیکھیں ابھی گوہرِ مراد
اک دوڑ ہے کہ سارے کے سارے گئے تو ہیں
دیکھیں رشیدؔ ساتھ نبھاتا ہے کتنا ضبط؟
اپنے خلاف لوگ ابھارے گئے تو ہیں رشید حسرتؔ
کسی حسین انگوٹھی کا نگ بنایا گیا
جھلس کے دور سے رہنے لگے ہیں لوگ سبھی
ہمیں ادب کے لیے جب سے پگ بنایا گیا
عطا جو مجھ کو کیا حق نے، کیا گھٹائیں گے؟
غرض کے سب یہ پجاری ہیں، سگ بنایا گیا
بس ایک اسً کی نظر ہے کہ دیکھے اندر تک
ہزاروں رنگ سے گویا یہ جگ بنایا گیا
یہ کون ہیں کہ لکھیں فیصلہ مقدّر کا
کہ جن کے چہروں پہ چہرہ ہے، ٹھگ بنایا گیا
مرے لہو میں تو شعر و شعور دوڑتا ہے
ہے عشق نبض مری، ضبط (رگ) بنایا گیا
یہ لڑکھڑا کے گریں گے رشیدؔ یاد رہے
کہ خوش خرامی کو بے وجہ ڈگ بنایا گیا رشید حسرتؔ
سبھی نے چھوڑ دیا، بد گمان تھامے رہا
فلک پہ تاروں کی محفل سجی ہوئی تھی کہیں
زمین زادہ کوئی آسمان تھامے رہا
حدود میں وہ مری سلطنت کی آ پہنچا
میں کچھ بھی کر نہ سکا بس کمان تھامے رہا
وہ جانتا تھا کہ بھائی ہیں اس کے قبضہ گیر
وراثتوں میں شکستہ مکان تھامے رہا
لڑائی بھائیوں کے بیچ میں عروج پہ تھی
کلامِ پاک کوئی درمیان تھامے رہا
عروج و پستی و ناکامیوں سے گزرا ہوں
تمام عمر تعلق گٹھان تھامے رہا
ہمیں نماز کی فرصت کہاں ملی ہے کبھی
تھکا نہیں ہے مؤذن اذان تھامے رہا
خطا تھی ماںؔ کی بھگتنا پڑا نتیجہ ہمیں
مزہ لگا ہے تو انسان دھان تھامے رہا
بزرگ کرتے رہے اس کی بارہا تاکید
اُسی کے زیرِ اثر خاندان تھامے رہا
پتہ بتاؤں تمہیں کیا کہ میں ہوں خانہ بدوش
روایتوں کا امیں ہوں، گِدانؔ۱ تھامے رہا
جو کاروبارِ محبت میں منہ کی کھا کے گیا
کما کے دیتی ہے اس کو دکان، تھامے رہا
معافی چاہوں گا آنے میں مجھ کو دیر لگا
میں لوٹ آتا مگر میزبان تھامے رہا
مفاد ہم کو تھا حسرتؔ عزیز، چھوڑ آئے
رہا جو گاؤں سو پیچھے کسان تھامے رہا Rasheed Hasrat
یَک طَرَفہ مُحَبّت کی، اب خَیرات نہیں کرنی۔
تُم چاہو تو، اب یہ اَذِیَّت خَتْم ہی سَمَجھو،
تیرے اِنتِظار میں، اب کوئی رات نہیں کرنی۔
سارے جَھگڑے ہی، یہ میری وَجہ سے تھے،
یہ رَسمِ چاہت بھی، تیرے ساتھ نہیں کرنی۔
اب کی بار تَوبَہ ، پھر کبھی بُھول کر بھی،
دِل لگانے کی، کوئی بھی وَاردات نہیں کرنی۔
چاند تاروں کو توڑنے کی باتیں کیا کرتا تھا،
خوابوں میں بھی خَراب، اب کائِنات نہیں کرنی۔
یَقیناً میں مِٹا ہی دوں گا، سب دِل و دِماغ سے،
زِندگی میں مَزید پیدا، کوئی مُشکِلات نہیں کرنی۔
نہ کوئی شِکوہ رہے گا، نہ کوئی سوال باقی،
مَحفِلوں میں تیرے نام کی سَماعت نہیں کرنی۔
میں نے بَخش دِیا، تُو بھی بَخش دے سَب،
قِیامت میں بھی، تُجھ سے مُلاقات نہیں کرنی۔ Waqas Khalid shamas
خاموشیوں میں ڈھل گیا، جو بولتا تھا کبھی
شاید وہ ڈھونڈتا تھا کسی حرفِ وفا کو
چہرے بڑے تدبر سے جو پڑھتا تھا کبھی
صحرا کی طرح دیر تلک پیاسا رہا وہ
بادل کی طرح ٹوٹ کے برسا تھا کبھی
اے تیز ہوا! کچھ تو خبر دے اس کے جنوں کی
تنہا ہی سفرِ شوق پہ نکلا تھا کبھی
اب آخری صفحوں میں کہیں نام ہے اس کا
احباب کی فہرست میں اوّل تھا کبھی
ہاتھوں میں لیے پھرتا ہے چھپا کر کوئی زخم
شیشے کے کھلونوں سے جو بہلتا تھا کبھی
پلٹ پلٹ کے اسے دیکھتی ہیں اب بھی یہ آنکھیں
کچھ دور مجھے چھوڑنے آیا تھا کبھی
اب اس نے بھی دنیا کے سلیقے ہیں سمیٹے
سائے کی رفاقت سے بھی ڈرتا تھا کبھی
ہر ذہن میں اک نقشِ وفا چھوڑ گیا ہے
کہنے کو بڑے شہر میں تنہا تھا کبھی
پہچان سے میری بھی وہ اب منکر ہوا ہے
سلمانؔ جو خط خون سے لکھتا تھا کبھی سید سلمان حیدر نقوی
میرے اندر میرے سوا کوئی دوسرا تک نہیں تھا
میں اپنی ذات کے صحرا میں تنہا چل رہا تھا
میری منزل کا کوئی رستہ دور تک نہیں تھا
بہت چاہا کہ رکھ دوں سر کسی کے شانے پر اک پل
مگر قسمت میں ایسا کوئی شانہ تک نہیں تھا
میرے ہونٹوں پہ ٹھہری تھی فقط خاموش سی ہنسی
میری آنکھوں میں جو گزرا، وہ کسی نے پڑھا تک نہیں تھا
میں اپنے زخم سینے میں لیے پھرتا رہا برسوں
میرا دکھ میرے چہرے سے مگر چھپا تک نہیں تھا
میں خود کو تھام کر بیٹھا رہا ٹوٹا ہوا اندر
میری حالت پہ مجھ سے بڑھ کے کوئی رویا تک نہیں تھا
بہت چہرے تھے میرے گرد، پھر بھی دل اکیلا تھا
ہجومِ شہر میں اپنا کوئی چہرہ تک نہیں تھا
سلمانؔ اپنے ہی سینے سے لپٹ کر رات بھر رویا
میری حالت میرے سوا کوئی سمجھنے والا تک نہیں تھا سید سلمان حیدر نقوی
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
قمر آسی
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔
Waqas Khalid shamas
خود سے تنہائی میں ملتا ہوں تم یاد آتے ہو
رات خاموش ہو اور چاند اتر آئے تو پھر
کھڑکیاں جب بھی کھولتا ہوں تم یاد آتے ہو
کوئی خوشبو جو ترے لمس کا دھوکا دے دے
سانس لیتا ہوں تو بے ساختہ تم یاد آتے ہو
لوگ کہتے ہیں کہ وقت زخم مٹا دیتا ہے
وقت گزرتا ہے تو بہت زیادہ تم یاد آتے ہو
ایک تصویر چھپا رکھی ہے دل میں اب تک
اس کو اشکوں سے جو پڑھتا ہوں تم یاد آتے ہو
کتنی کوشش کی ترے بعد سنبھلنے کی مگر
جب بھی ہنستا ہوں تو اندر سے تم یاد آتے ہو
کوئی پوچھے کہ محبت کا صلہ کیا پایا
نام لیتا نہیں، چپ رہتا ہوں تم یاد آتے ہو
مسعود کی آنکھوں میں کہاں نیند رہی
رات ڈھلتی ہے تو بے حد تم یاد آتے ہو محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ
Poetry in Urdu
Urdu poetry is like a really beautiful form of writing. It speaks to our feelings so clearly, it almost feels personal. The words themselves may look simple, but they carry hidden, deep meanings, and somehow they stay strong too, which is the true beauty of poetry in urdu. Sher o Shayri is not only about writing line after line, or verse after verse, it is also about saying those things we often keep inside, and don’t really voice out loud. Love and sadness, hope, sacrifice, and faith are all gently brought forward within the words of Urdu poetry, in a kind of quiet way. No matter if you are in a happy mood or in a difficult, sad phase, you will still find some part of it that connects to your heart.
The ashaar (short verses) and nazm (long verse narratives) add more glow to Urdu poetry, where big ideas can be passed on in just a few words, like a small hint becomes a whole meaning. A sher (couplet) can touch the reader’s heart, and you know, it stays there.
Great Minds Behind Urdu Poetry
To understand Urdu shayari, you have to look at the different structures poets use. Among them, Mirza Ghalib comes up as one of the most legendary figures. It’s a bit strange, a few lines can suddenly click and make sense of how you feel, like, right there. Then there’s Allama Iqbal, another great poet, who influenced millions through his motivational poetry. Even if you’re feeling low or you need that push, his poetry does a beautiful kind of work in the background.
Faiz Ahmed Faiz used poetry to voice his thoughts about love as well as social justice. And Parveen Shakir brought modern Urdu literature forward through her gentle emotional writing style, which made quiet yet deep connections with readers and became a timeless part of urdu shayari.
So poetry in urdu endures, because people keep enjoying it now too. They share poetry in urdu text on social media platforms, while books still keep the lines safe, and people all across the world enjoy it during different Mushairas.
Latest Reviews
This page handles the legendary, deep poetry of Iqbal beautifully by showing it in a clean font. Reading these revolutionary lines always leaves me feeling inspired.
- Warda Hashmi , Pakistan
- Thu 21 May, 2026
I love looking through this specific page to grab sharp, confident lines for my daily status updates. The poetry is very clever and matches my energy perfectly.
- Sameen Faisal , Islmabad
- Thu 21 May, 2026
This section packs a genuinely moving collection of deep Urdu lines that capture heavy emotions flawlessly. It’s a wonderful hideout for anyone who deeply loves classic literature.
- Rehan Fazal , Pakistan
- Thu 21 May, 2026





