ؐصروف اپنی جنگ میں رہنا سدا مگر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاکرنا ہے کارِ خیر تو پھر سر نہ دیکھنا
برسیں جو تیری ذات پہ پتھر نہ دیکھنا
لگنے لگیں گے دوست بھی دشمن سبھی تمیں
یعنی ہے کس کے ہاتھ میں خنجر نہ دیکھنا
رکھنا حقیقتیں بھی نگاہوں کے سامنے
دن رات صرف خواب کا منظر نہ دیکھنا
رہ جائے رنگ و بو سے تعلق ترا اگر
پھولوں کو اپنے ہاتھ سے چھو کر نہ دیکھنا
جانا اگر ہے پار تو ہو کر سوار تم
کشتی کے ساتھ ساتھ سمندر نہ دیکھنا
خود کرنا زندگی سے وفاؤں کا فیصلہ
کیا کہہ رہا ہے تم سے مقدر نہ دیکھنا
ؐصروف اپنی جنگ میں رہنا سدا مگر
نظر ٰیں اٹھا کے تم کبھی اوپر نہ دیکھنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






