آؤ اپنے اپنے دکھوں کا حساب کریں
Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF(Lucky) , K.S.Aآؤ اپنے اپنے دکھوں کا حساب کریں
کچھ تمہاری ، کچھ ہماری مل کر بات کریں
مانا کہ زندگی اک تلیخ حقیقت ہے
مگر جینے کی عمر میں کیوں رات کریں
سنو جدائی کا درد بہت زیادہ بہت گہرا ہوتا ہے
ہم اناء کی خاطر کیوں محبت خراب کریں
وصل کے لمحے قسمت والوں کو ملتے ہیں
آؤ اپنی محبت کو بے مثال ، نایاب کریں
چلو چاند نگری میں آج اک گھر بنھا لیتے ہیں
کیوں دور رہ ، رہ کر اک دوسرے کو بےتاب کریں
میرا دل دھڑکتا ہے تو تمہیں پکارتا ہے
کیونکہ اس دل کو خوشی سے گلاب کریں
لہروں پر لہریں آتی ہیں سمندر کنارے
کیا ممکن ہے جو سمندر کو ہم تالاب کریں
وہ کیوں روٹھ کر جا رہا ہے ُاسے روکو زرہ
میری خوشیوں کو نا اب وہ خواب کریں
لکی ! دعایئں مانگ کر وہ ملا تو کیا ملا
مزہ تو تب ہے جب خدا ُاسے میرے لیے انتخاب کریں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






