آؤ ذرا پچھتا لیں محبت ک اصولوں پر
Poet: Saba Hassan By: saba Hassan, Lahoreحیات خوشنما کے زوا لوں کی وجہ بن کر
آج پوچھتے ہو محبت کی ابتدا کے رنگ
بکھرنے کیے سوالوں کا
مکرنے کیے کمالوں کا
تمہیں معلوم ھے ٹٹولو ذرا خود کو
وہ اس دن جب پہلی بار
تمہارا نام لینے سے میرا وجود سنبھلا تھا
وہ جب تم نے میرے زخموں میں
تسلیوں کا مرہم رکھا تھا
میرے آنسو سبھی تم نے دامن میں چھپا ے تھے
وہ جب تکلیف تو میری تھی مگر آنسو تم نے بھا ے تھے
وہ جب کھلے تھے لب میرے مگر دل میں گل تم نے سجا یے تھے
وجود سحر تم سے تھی شب نورستا تم سے تھی
میں وہ انمٹ کہانی ہوں
جو بھولی جا نہیں سکتی
تلازم با ندھہ کر دیکھو ماضی چھانٹ کر دیکھو
محبت کہ سبھی موسم ذرا تم ناپ کر دیکھو
خودی یہ جا ن جا ؤ گے
مجھے پہچا ن جاؤ گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






