آؤ نا پھر کہکشاں پر پھول کھلتے دیکھ لو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاآؤ نا پھر کہکشاں پر پھول کھلتے دیکھ لو
دیدنی ہیں آسماں پر پھول کھلتے دیکھ لو
خوشبوؤں کے سنگ اڑتی پھر رہی ہیں تتلیاں
ہر قدم اس کارواں پر پھول کھلتے دیکھ لو
میرے ہونٹوں کے تبسم کی قسم آکر ذرا
میرے دل کے آستاں پر پھول کھلتے دیکھ لو
میرے حصے میں غموں کی آہ ہے سنتی ہوں میں
تم تو شاخِ آشیاں پر پھول کھلتے دیکھ لو
یہ نہ دیکھو میں کہاں پر عشق میں زخمی ہوئی
آج زخموں کے نشاں پر پھول کھلتے دیکھ لو
دن گزرتا ہی نہیں جانِ وفا ، وشمہ صنم
تم بھی یادِ مہرباں پر پھول کھلتے دیکھ لو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






