آؤ پھر سے عہد پیما کریں
Poet: ملکہ افروز روہیلہ By: ملکہ افروز روہیلہ , کراچیآؤ پھر سے عہد پیما کریں
آج کے دن کا مان رکھیں
ہر روز کی طرح ، آج بھی نکلنے والے سورج کی کرنیں
اپنے ساتھ رنگ ، خوشبو و پھولوں کی سوغات لاتی ہیں
برسوں پہلے ایک ناطہ جڑا دل سے پیار سلسلہ بنا
پھر وقت کی گرد نے سب کچھ دھندلا دیا
دھندلے آئینے میں
دھندلی دل کی تصویر
ٹکڑوں میں بٹتی رہی
تم اپنے شکوے پھیلاتے رہے
میں اپنے آنسو سمیٹتی رہی
ایک کاغذ کا ناتہ تم نے جوڑا
اور
پھر دل سے توڑا
کب اوپر والے نے ہمارے لمحاتی عشق کو دوام بخشا
ایک اٹوٹ بندھن وقت نے باندھا
تمہں باپ کی خلعت دی مجھے ماں کا روپ دیا
ہمارے آنگن میں ایک پھول کھلا
پہار نے رستہ آنگن کا دیکھا
زندگی نے ایک نئی کروٹ لی
رشتوں نے ایک نیا نام لیا
اس نئے رشتے کا بھرم رہنے دو
ہمیں ایک دوسرے کے سنگ ّّاس ٌٌ کے لیے جینے دو
آؤ آج پھر سے عہدو پیما کریں
تجدید وفا کریں
( 26 اپریل 2006 ء )
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






