آؤ کہ چلمن سے پھوُل چُن کے دیکھتے ہیں
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiآؤ کہ چلمن سے پھوُل چُن کے دیکھتے ہیں
کس کا کتنا اُجر آج گن کے دیکھتے ہیں
کیوں سرکش جیون بغاوت پہ اتر آیا ہے
اپنی آوارگی کا روش ابکہ سُن کے دیکھتے ہیں
خود کی بے ادبی پہ تمسخر کون کرے یہاں
بے وفائی میں سبھی مزاج اُن کے دیکھتے ہیں
فطرتوں میں صدا نے بہت ھنگامے کیئے اب تو
آؤ کہ غل غپاڑے کچھ فن کے دیکھتے ہیں
صورتوں سے محبت کی گہرائی نہیں ناپی جاتی
نین تو سنجوگ سبھی تَن کے دیکھتے ہیں
حقیقتوں کو قرار شاید کبھی نہ مل سکے
راتوں کو جاگ کے خواب ہم جن کے دیکھتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






