آئینوں جب کوئی تصویر دکھانا تو نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاآئینوں جب کوئی تصویر دکھانا تو نہیں
اصل چہرہ بھی ذرا سامنے لاناتو نہیں ....
اور کیا، دے ہی چکے ہو جو اندھیرے کو شکست
ایک لحظہ کو سہی جوت جگانا تو نہیں
جو بھی آئے ہے خریدے تُجھے ایرا غیرا
گر چکا ہے ترا بھاؤ اُٹھانا تو نہیں
دور ہو زلف رسا کی یہ پریشانی کچھ
اس کو سُلجھاؤ توگُل سے سجانا تو نہیں
اب کے منجدھار میں پتوار کھوئیے چھوڑو
وقت پر بنتی ہے کیا، سیکھے زمانہ تو نہیں
چھوڑ دینا کوئی کھڑکی، کوئی دروازہ کھُلا
گھر مرے دل میں گھٹا تُو جو بنانا تو نہیں
میری توبہ جو محبت میں کروں پھر وشمہ
بس ہے اتنی سی ہی خواہش کہ بچانا تو نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






