آئیں ہیں ہمارے گھر اب کیا نثار کروں
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaآئیں ہیں ہمارے گھر اب کیا نثار کروں
دل نثار کروں یا کہ میں جان نثار کروں
سمجھایا بہت یہ ناداں سمجھتا ہی نہیں
جی چاہتا ہے اس سے بےحساب پیار کروں
جانتا ہوں وہ سنگدل ہے بہت ظلم
کچھ بھی ہو اس مغرور کی منت ہزار کروں
مانتا نہیں یہ جنوں حد سے گزر کیا
دیکھ دامن چاک گربیان کو اور کیسے اظہار کروں
ہم بھی نظر رکھتےہیں خوب چمن کے اردگرد
جانتا ہوں سب کچھ پر نہیں چاہتا تکرار کروں
یارب قفس سے چھوٹنے تک یہ پر رہیں
دل کو آزادی سے پہلے ہی کیوں بقرار کروں
نازک معزاج تم بھی کچھ قیامت سے کم نہیں
آپ ہی بتائیں آپ کا کیسے اعتبار کروں
توڑ دی جام سبو صراحی تیرے اشارے پر
اور بتا کروں تو کیا میرے یار کروں
آیا ہوں تیرے ظلم کی حد پار کر کے میں
سر تو جھکا دیا ہے کہو تو حاضر تلوار کروں
اٹھ رہے ہیں طوفاں زور شور سے سینے میں
اب کیسے قلزم آنسوں کا ان میں شمار کروں
More Love / Romantic Poetry
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina







