آتا ہے نظر آج جو موسم دھواں دھواں
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillآتا ہے نظر آج جو موسم دھواں دھواں
کل تیرے وجود سے یہ تھا عیاں عیاں
دیکھیں گے کبھی خلد تو یہ تب کی بات ہے
لگتا ہے ابھی سانس کا سودا زیاں زیاں
شاید کسی کے لوٹ کے آنے کی نوا ہے
رہتا ہے میرا ذوق تخیل گماں گماں
الفاظ وہی ہیں تو کیا جذبات وہی ہیں
سنتی تو ہو گی روح بلالی اذاں اذاں
آسوں کا اک چراغ لئے دیکھ رہا ہوں
بکھرے ہیں میری ذات کے ٹکڑے کہاں کہاں
سنتے ہیں وہاں پیار کے چشمے ابل پڑے
رگڑے تھے میرے شوق نی پاؤں جہاں جہاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






