آتشِ ہجر میں خود کی ہی بنی رہتی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاآتشِ ہجر میں خود کی ہی بنی رہتی ہے
میں نے بڑھ کر اسے سینے سے سجی رہتی ہے
میں نے ہر روز نیا ایک تماشا کر کے
اپنی دنیا کی تمنا کی نمی رہتی ہے
ساری دنیا کو بتایا ہے کہ انسان ہوں میں
ایک میلا سا زمانے میں سجی رہتی ہے
اپنے حصے کی بہاروں کو لٹا کر تجھ پر
تیرے دامن کو شراروں سے بچی رہتی ہے
ایک دن دیکھنا لفظوں میں جھلک آئے گی
تم نے جس خون کو گردش میں بہی رہتی ہے
صاف لفظوں میں کرو عرضِ محبت وشمہ
بات کو یونہی مری جان گھمی رہتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






