آج آنکھوں سے اشک نہیں رکنے پاتے
Poet: M.ASGHAR MIRPURI By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAMتیرےانتظار میں بےقرار ہیں آنکھیں
تیرےہجر میں اشک بار ہیں آنکھیں
آج آنکھوں سےآنسو نہیں رکنےپاتے
لگتا ہے کسی غم کا شکار ہیں آنکھیں
کاش کوئی آ کر میرےآنسو پونچھے
کئی دنوں سےمحو انتظار ہیں آنکھیں
میرےتن من کو وہ ایسےمعطر کرتی ہیں
اس جان ادا کی ایسی مشک بارہیں آنکھیں
اگر ہوسکے توآ کرانہیں دیکھ لےجاناں
کہ تیری دیدکو کتنی بےقرار ہیں آنکھیں
اب دن رات یہ بےچین سی رہتی ہیں
تیرےآنےکی راہ تکتی باربار ہیں آنکھیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






