آج تیرے شہر میں ہم اجنبی جانے گئے
Poet: Khalid Mahmood By: Khalid Mahmood, Abha آج تیرے شہر میں ہم اجنبی جانے گئے
مدتوں کی قربتیں اور دل کے افسانے گئے
ہر برس پھولوں کے تحفے بھیجتے رہے جنہیں
آج ان کے تیر میری ہی طرف تانے گئے
آج پھر ٹوٹی ہیں میرے دل کی نازک کھڑکیاں
ناز تھا جن پہ ہمیں وہ دوست پہچانے گئے
ایک مدت سے ہمارے دل کے جو مہماں رہے
آج میرے پاس سے وہ بن کے بیگانے گئے
نہ وہ منظر، نہ وہ نغمہ، نہ وہ ساز دل ربا
ساقیا جانے سے تیرے مے و میخانے گئے
ہم نے دل کی چاہتوں سے آپ کہ مانا مگر
ہم اگر مانے گئے تو غیر ہی مانے گئے
کیا صلہ خالد وفا کا تو نے پایا ہے یہاں
آج بھی ہم بے وفا کے نام سے جانے گئے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






