آج میرے درد کا وہ جائزہ لیتے رہے
Poet: Aslam sabir By: Aslam sabir, Mianwaliآج میرے درد کا وہ جائزہ لیتے رہے
جینے کو کیا ہے بچا وہ جائزہ لیتے رہے
موت بھی دیتی رہی دستک مسیحا دیکھتے
خوب میرے جسم کا وہ جائزہ لیتے رہے
نفرتوں کا پانی تھا بنیادوں میں پھیلا ہوا
یہ مکاں کیسے گرا وہ جائزہ لیتے رہے
ظلم کے ہر وار پر میں دیکھتا تھا آسماں
کیا کرے گا اب خدا وہ جائزہ لیتے رہے
زندگی کی مشکلوں میں اس قدر صابر رہا
اس بلا کے صبر کا وہ جائزہ لیتے رہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






