آج کی رات
Poet: فریحہ امجد By: Fareeha Amjad, Calgaryرات ہوئی تنہائی ہوئی
ویرانوں میں کہیں کسک ہوئی
یادوں کی
یہ رات بھی گزر جائے گی
لیکن
کل پھر آئے گی
اداسی کی کشتی پہ سوار
ویرانوں کی موجوں پہ
یادوں کا دروازہ کھٹکھٹائے پوچھے گی
آج کون سا قصہ چھیڑوں
آج کچھ ایسا درد دو اے رات
کہ کل نہ ہو
آج کچھ ایسا کہو کہ یہ
کشتی ڈوب جائے
موجیں ٹهر جایئں
اور دروازہ نہ کھلے
اگر ایسا ہوجائے تو
اے رات
سکون کی نیند سو جائینگے ہم
سکون کی رات ہو جاؤ گی تم
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






