آج کے دور میں انسان جدا لگتے ہیں
Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistanدوسروں سے نہیں خود سے ہی خفا لگتے ہیں
آج کے دور میں انسان جدا لگتے ہیں
اب وہ پہلی سی مروت ہی نہیں ہے باقی
اپنی ہی ذات پہ سب لوگ فدا لگتے ہیں
دیکھئیے جرم سبھی نام ہمارے لکھ کر
آپ بے نام خطاؤں کی سزا لگتے ہیں
ظاہری شکل بدلنے سے نہیں کچھ حاصل
لوگ چہروں کو بدل کر بھی تو کیا لگتے ہیں
آپ میرے لئے کیا ہیں یہ بتاؤں کیسے ؟
زندگی میں کسی نیکی کا صلہ لگتے ہیں
بے وفائی کا تصور بھی نہیں ہے سارہ
میرے محسن باوفا مجھکو سدا لگتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






