آخری خط کو مرے اُس نے جلایا بھی نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاآخری خط کو مرے اُس نے جلایا بھی نہیں
ہے محبّت یا عداوت یہ بتایا بھی نہیں
جانے کیوں آج وہ گھبرایا ہوا لگتا ہے
آئینہ میں نے ابھی اس کو دکھایا بھی نہیں
ہاے اندازِ محبّت کوئی دیکھے اُس کا
ساتھ چھوڑا بھی نہیں ساتھ نبھایا بھی نہیں
جانے کس بات سے چہرہ تھا پریشان اس کا
جبکہ محفل میں مرا نام تو آیا بھی نہیں
یوں تو کہنےکو ملاقات ہوئی تھی لیکن
حال پوچھا بھی نہیں حال بتایا بھی نہیں
بس اسی بات کا افسوس ہے وشمہ اُس نے
جاتے جاتے مجھے سینے سے لگایا بھی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






