آخری مُلاقات
Poet: Muhammad Imran Khan - Emron Mano By: Muhammad Imran Khan, Peshawarوہ کتنے سالوں کتنی مدتوں کے بعد آئی
سوئی حسرتیں تمام، پھر سے جگا لائی
دیکھ کر اُسے میرے دل کو کتنی خوشی ملی
نجانے آنکھ میری کیوں اچانک بھر آئی
وہ میرے سامنے، میرے ہی روبرو بیٹھی
جو مُجھ کو دیکھا تو وہ زرا سی شرمائی
میں ہنس کر کہنے لگا کُچھ بات کرو
آنچل دانتوں میں دبا کر زرا سی مُسکائی
کہا اماں سے مُجھے کوئی مانگنے آیا
میں تُجھ سے تیرے دل کی بات پوچھنے آئی
میری اُمیدوں حسرتوں پہ سرد برف پڑھی
یہ کس امتحان کی گھڑی مُجھ پہ آئی
میری آنکھوں میں بے بسی تو اُس نے پڑھ لی تھی
پھر بھی اُمید کی شمع میرے دل میں جلائی
میں اِس سوال سے کچھ اسقدر اُلجھ سا گیا
میرے نظر اُسکی نظروں سے پھر نہ مل پائی
اُس نے مجھ کو سمجھایا، مُجھے دلاسہ دیا
خُدا حافظ جو کہا تو آواز بھر آئی
ہاں اُسکی آخری مُلاقات مُجھ کو یاد آئی
بج رہی تھی، ڈھولک ساتھ شہنائی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






