آخر میں بھی ایک انسان ہوں
Poet: Ahsan Khan By: Nighatara, lahoreجب ہوتی ہے رات جاگتے ہیں تارے
تب جاگتا رہتا ہوں میں
آخر میں بھی ایک انسان ہوں
یاد آتی ہے تمہاری
دیکھتا رہتا ہوں میں راہ
آخر میں بھی ایک انسان ہوں
جاگتا رہتا ہوں میں
آخر میں بھی ایک انسان ہوں
رہتا ہے انتظار تمہارے ایک پیغام کا
تب سو جاتا سب جاگتا رہتا ہوں میں
آخر میں بھی ایک انسان ہوں
سو جاتے ہیں تارے جب سو جاتے ہو تم
جاگتا رہتا ہوں میں
کھلی رہتی ہیں آنکھیں رہتا ہے انتظار
آخر میں ہی ایک انسان ہوں
پوچھتا ہے چاند کس کا ہے انتظار
میں لیتا ہوں تیرا نام
تب سو جاتا ہے چاند
جاگتا رہتا ہوں میں
آخر میں بھی ایک انسان ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







