آخر کب تک
Poet: Ali Rasikh By: Farzana Basit, Sialkotکتنی امیدوں سے بنایا تھا ہم نے آشیاں
کیا بیت رہی ہے اس پہ کیسے کروں بیاں
کس نام پہ وطن لیا تھا کیا کام یہاں پہ ہوتا ہے
خلوت میں بھی جو ممنوع تھا کبھی سرعام یہاں پہ ہوتا ہے
عزت کی قیمت گر گئی ایمان بھی آخر بکنے لگے
چیزوں کی تجارت سنتے تھے انسان بھی آخر بکنے لگے
گھر سے باہر نکلتے ہوئے لوگ اب تو ڈرنے لگے
جیسے کیڑوں کو کچل دے کوئی یوں انسان مرنے لگے
مرنے والوں کے لواحقین لاشوں پہ آ کے روتے ہیں
جلوس بھی نکلتے ہیں پھر ہنگامے بھی ہوتے ہیں
چیخ چیخ کے آخر کار لوگ تھک جاتے ہیں
رفتہ رفتہ اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں
یہاں آگے بڑھنے کو کوئی قدم سے قدم ملائے کیسے
جب رہبر ہی رہزن بن جائیں تو منزل تک کوئی جائے کیسے
درد کے مارے لوگوں کے دلوں میں یہ خیال آتا ہے
لب تو ساکن ہیں مگر آنکھوں میں سوال آتا ہے
یہ زندگی بے سر و ساماں کب تک آخر کب تک
یہ دشمن انساں کا انساں کب تک آخر کب تک
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو







