آرزو میں کمی نہیں ہوتی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاآرزو میں کمی نہیں ہوتی
غم سے یہ دشمنی نہیں ہوتی
اب اُٹھائیں گے ہم جو دیواریں
بیچ میں تشنگی نہیں ہوتی
میری تنہائی میں وہ رہتا ہے
سنگ اب عاشقی نہیں ہوتی
اور بھی مسئلے ہیں دنیا میں
کوئی بھی دل لگی نہیں ہوتی
لڑ گئے کیا اصول کی خاطر
اُس سے اب دوستی نہیں ہوتی
رونق بزم ہو گئی رُخصت
یارو اب روشنی نہیں ہوتی
وہ مرے روبرو رہے وشمہ
بس مجھے عاجزی نہیں ہوتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






