آرزو کے جانب سبھی دنگ ہیں راستے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiآرزو کے جانب سبھی دنگ ہیں راستے
سنبھل کر چلنا بڑے تنگ ہیں راستے
بے چاک بدن میں آگ سے سلگتی ہے روز
منتظر جوانیوں کے تنہا انگ ہیں راستے
تجھے تیری ہی صداقت نہ مار ڈالے کہیں
راست بازی کے یہاں بند ہیں راستے
نظاروں کی کہانیاں نظاروں کے پیچھے
نظروں کی رسائی تک دھند ہیں راستے
تو ہی محاسب اور تو ہی انصاف تیرا
عہد و پیمان تک تیرے سنگ ہیں راستے
مول کے میدان میں رعایا کا دَم ہے اپنا
جیت یا ہار عموماً جنگ ہیں راستے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






